امریکی صدر کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے پر تیل مہنگا
عالمی منڈی میں تیزی، برینٹ خام تیل کے نرخ بڑھ گئے، سپلائی خدشات برقرار
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا منظر
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جنگ کے خاتمے اور اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق تجویز کو مسترد کرنا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پیر کے روز عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کے فی بیرل نرخ 1.82 ڈالر یعنی 1.74 فیصد اضافے کے بعد 106.14 ڈالرز تک پہنچ گئے، جبکہ کچھ رپورٹس کے مطابق اس کی قیمت 105.64 ڈالرز فی بیرل رہی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جو 1.14 ڈالر یعنی 1.23 فیصد اضافے کے بعد 93.55 ڈالرز فی بیرل ہو گئی جبکہ بعض ذرائع نے اسے نصف فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 93.11 ڈالرز فی بیرل بتایا ہے۔
معتبر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے دعوے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو بتایا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے کیونکہ انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ تہران انتظامیہ ان کے تمام مطالبات تسلیم کرے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی تجویز مسترد ہونے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنے کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات گہرے ہو گئے ہیں، جس کے اثرات براہ راست عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔