بھارت: 600 سالہ تاریخی شاہی مسجد کو بچانے کے لیے ہزاروں مسلمان اندر بیٹھ گئے
انتظامیہ کی کارروائی ناکام، سڑک کی توسیع کا منصوبہ، سخت سکیورٹی تعینات
اجین میں تاریخی شاہی مسجد کے باہر سکیورٹی اور عوام کا اجتماع
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں 600 سال سے زائد قدیم تاریخی شاہی مسجد کو انہدام سے بچانے کے لیے سیکڑوں اور ہزاروں مسلمان مسجد کے اندر اور باہر ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی بھاری نفری اور ریپڈ ایکشن فورس کی موجودگی میں رات گئے بلڈوزر کے ذریعے مسجد کو مسمار کرنے کی کوشش کی گئی جسے مقامی افراد نے سخت مزاحمت کے بعد عارضی طور پر ناکام بنا دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تنازع 2028 میں ہونے والے ہندوؤں کے مذہبی میلے سنگھستھ کمبھ سے قبل سڑک کو 15 میٹر تک چوڑا کرنے کے منصوبے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اس تاریخی مسجد کا تقریباً 39.33 مربع میٹر حصہ متاثر ہو رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ریاست کی بی جے پی حکومت کا مؤقف ہے کہ بڑے مذہبی اجتماع کے دوران لاکھوں زائرین کی آمد کے پیش نظر ٹریفک اور عوامی نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیے سڑک کی توسیع ناگزیر ہے۔
مذکورہ معاملے پر عدالتوں کے ریکارڈ اور دستاویزات کے مطابق مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 9 ستمبر کو مسجد کے تحفظ کے لیے دائر کی گئی درخواستیں مسترد کر دی تھیں، جبکہ مقامی مسلمانوں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔ مسجد کے امام محمد ابراہیم کے مطابق یہ مسجد سال 1390 میں تعمیر ہوئی تھی اور اسے تقریباً 636 سال پرانا تاریخی مذہبی مقام قرار دیا جاتا ہے۔
مسجد میں جاری احتجاج کے شرکا اور منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے 2 ہفتوں سے مسلسل پرامن احتجاج کر رہے ہیں اور لوگوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ مسجد کو شہید ہونے سے بچانے کے لیے وہ شفٹوں میں باری باری مسجد کے اندر موجود رہیں گے۔ احتجاج کے دوران ظہر کی نماز کے بعد کم از کم 1000 افراد مسجد کے اندر موجود تھے۔ صورتحال کے پیش نظر علاقے میں پولیس نے بیریکیڈز لگا دیے ہیں اور سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔