افغان جنگ پر امریکی کمیشن کے وفد کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات
پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف- آرمی چیف نے پاکستان کے تجربے سے وفد کو آگاہ کیا
امریکی وفد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کر رہا ہے
امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی، جس کے دوران پاکستان کے افغانستان میں طویل کردار اور قربانیوں کا اعتراف کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے شریک چیئرز شمیلا این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن کی قیادت میں وفد نے پیر کو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ شمولیت کا جائزہ لے رہا ہے۔ ملاقات میں افغانستان میں پاکستان کی حمایت، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور افغانستان میں ہونے والی تازہ پیش رفت سمیت کمیشن کے کام سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی وفد نے افغانستان کے تنازع کے دوران پاکستان کے طویل مدتی کردار اور دی جانے والی قربانیوں کو تسلیم کیا جبکہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا۔
ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغانستان میں تنازع کو تشکیل دینے والی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیا اور امریکا کی طویل موجودگی کے دوران پاکستان کو درپیش چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی جنگ اور اس کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے علاقائی نقطہ نظر کو شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے تنازع کے سٹریٹجک، سفارتی اور عملی پہلوؤں کے حوالے سے پاکستان کے تجربے سے بھی وفد کو آگاہ کیا۔
امریکی کانگریس نے 2021 میں افغانستان جنگ کمیشن قائم کیا تھا، جو ایک آزاد ادارے کے طور پر جون 2001 سے اگست 2021 تک افغانستان میں جنگ سے متعلق امریکا کے فیصلوں کا جائزہ لے رہا ہے۔
امریکی افواج نے اگست 2021 میں افغانستان سے انخلا مکمل کیا تھا، جس کے ساتھ افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ جنگ کا اختتام ہوا۔ امریکی فوجی انخلا 30 اگست 2021 کو رات بارہ بجنے سے ایک منٹ قبل مکمل کیا گیا۔
امریکا نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد افغانستان میں فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد دو دہائیوں تک جاری رہنے والے تنازع میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔
اس عرصے کے دوران تقریباً 8 لاکھ امریکی فوجی اہلکاروں نے افغانستان میں خدمات انجام دیں، جبکہ جنگ میں 2 ہزار 238 امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً 21 ہزار زخمی ہوئے۔
اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کے مطابق طالبان، داعش اور افغان حکومت یا امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی کارروائیوں کے نتیجے میں 40 ہزار سے زائد شہری ہلاک اور 77 ہزار زخمی ہوئے۔ آزاد اندازوں کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز اور شہریوں کی مجموعی ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی تھیں۔
2022 میں شائع ہونے والی وال اسٹریٹ جرنل کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق 11 ستمبر 2001 کے بعد افغانستان میں امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے نجی ٹھیکیداروں پر انحصار سمیت مجموعی امریکی دفاعی اخراجات 14 کھرب ڈالر تک پہنچ گئے تھے، جن میں سے ایک تہائی سے نصف رقم ٹھیکیداروں کو ادا کی گئی۔