امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے سسٹم میں سائبر حملہ، ملازمین کا ڈیٹا چوری
سنگین سائبر دراندازی، حساس معلومات تک رسائی، تحقیقات کا آغاز
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا لوگو اور عمارت
امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے سسٹم میں ایک سنگین سائبر دراندازی کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں ملازمین کا حساس ڈیٹا چوری ہو چکا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق شائنی ہنٹرز نامی ہیکنگ گروپ نے چند روز قبل ایف بی آئی کا ڈیٹا چرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس اور دستیاب دستاویزات کے مطابق چوری کیے گئے ریکارڈ میں ایف بی آئی ملازمین کے گھروں کے پتے اور سوشل سکیورٹی نمبرز سمیت دیگر حساس معلومات شامل ہیں۔ ایف بی آئی کے تفتیش کار اس سائبر حملے کی نوعیت اور اس کے مکمل دائرہ کار کا تعین کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب، ایف بی آئی نے ایک اور کارروائی کے دوران لارنس بشنوئی آرگنائزڈ کرائم گروپ کے اہم کارندے ستندر جیت سنگھ المعروف گولڈی برار کو اپنے 10 انتہائی مطلوب مفرور افراد کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ وفاقی ادارے کے مطابق یہ گروپ امریکا اور کینیڈا سمیت جنوبی کیلیفورنیا کے مختلف علاقوں میں متعدد پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
امریکہ کی ضلعی عدالت برائے وسطی ضلع کیلیفورنیا کی جانب سے یکم جولائی 2026 کو جاری کردہ وفاقی گرفتاری کے وارنٹ کے مطابق ستندر جیت سنگھ پر بھتہ خوری، کاروباری سرگرمیوں میں مداخلت اور منشیات کی تقسیم کی سازش کے الزامات ہیں۔ ایف بی آئی نے اعلان کیا ہے کہ ستندر جیت سے متعلق ایسی معلومات فراہم کرنے والے شخص کو 10 لاکھ ڈالر تک کا انعام دیا جائے گا جو اس کی گرفتاری کا باعث بنے۔ ادارے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ مذکورہ ملزم مسلح اور انتہائی خطرناک ہے۔