چھوٹے دکانداروں کیلئے خصوصی ٹیکس اسکیم ابتدائی مرحلے میں ہے، ایف بی آر
اہم پیش رفت، ٹیکس چوری روکنے کیلئے اقدامات، پاس ورڈز کی تبدیلی پر تشویش۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کی عمارت اور ٹیکس امور کا عکاس منظر۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس اسکیم کے حوالے سے اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسکیم فی الحال اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق حکومت پاکستان اور ادارہ تاجر برادری، مارکیٹ نمائندگان اور مختلف تجارتی تنظیموں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ اس اسکیم پر عملدرآمد کو آسان، شفاف اور تاجروں کے لیے سہولت پر مبنی بنایا جا سکے۔
ترجمان ایف بی آر کا کہنا ہے کہ تاجر برادری کی جانب سے موصول ہونے والی آراء اور تجاویز کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ رجسٹریشن کے دوران سامنے آنے والی حقیقی مشکلات کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایف بی آر نے تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ رجسٹریشن کے دوران کسی بھی قسم کی تکنیکی دشواری یا مسئلے کی صورت میں براہ راست ادارے سے رابطہ کیا جائے تاکہ انہیں فوری معاونت فراہم کی جا سکے۔ حکام کے مطابق اس اسکیم کا بنیادی مقصد چھوٹے تاجروں کے لیے کاروباری امور میں آسانی پیدا کرنا اور رضاکارانہ ٹیکس تعمیل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
دوسری جانب ٹیکس چوری روکنے کے لیے ایف بی آر نے مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار آڈٹ نظام سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن میں غلط معلومات فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے مالی لین دین کا ریکارڈ احتیاط سے مرتب کریں اور تمام معلومات درستگی کے ساتھ درج کریں۔ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔
دریں اثنا کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ریحان حنیف نے ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے پاس ورڈز اچانک تبدیل کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آخری تاریخ قریب ہونے کے باوجود پاس ورڈز کی تبدیلی نے گوشوارے جمع کرانے کے عمل کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے، بالخصوص بیرونِ ملک یا سفر پر موجود کم از کم 30 فیصد ٹیکس دہندگان کو نئے پاس ورڈ کے حصول میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ چیمبر صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کو اس عذاب سے بچانے کے لیے فوری طور پر سابقہ پاس ورڈ بحال کیے جائیں۔