خطرات کے باوجود ٹرمپ نے اے آئی کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دے دی

صنعت خود نگرانی کرے گی، دستاویز پر ٹیکنالوجی رہنماؤں کے دستخط ثبت

September 30, 2026 · اہم خبریں
خطرات کے باوجود ٹرمپ نے اے آئی کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دے دی

خطرات کے باوجود ٹرمپ نے اے آئی کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (AI) کی صنعت کے ساتھ طے پانے والی ایک اہم دستاویز جاری کردی ہے، جس کے تحت اس جدید ٹیکنالوجی کی صنعت خود اپنی نگرانی کرسکتی ہے۔ دستاویز کے مطابق، امریکی صدر نے ٹیکنالوجی عہدیداروں کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق اس دستاویز پر دستخط کیے ہیں، جسے صدر ٹرمپ نے تحفظ کی ایک شکل قرار دیا ہے۔

یہ اقدام اس حقیقت کے باوجود کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت بے قابو ہو کر انسانوں کےلئے خطرہ بن سکتی ہے اور امریکہ میں سول سوسائٹی اس پر سرکاری کنٹرول کا مطالبہ کر رہی ہے۔

جاری کردہ دستاویز پر معروف عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں گوگل (GOOGLE)، اینتھراپک (ANTHROPIC)، میٹا (META)، اوپن اے آئی (OPENAI)، ایکس اے آئی (XAI) اور نیوڈیا (NVIDIA) کے سربراہان کے دستخط ثبت ہیں۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں اے آئی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں ہمیں نمایاں برتری حاصل ہے اور ہم اسے ہر صورت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اے آئی رہنما اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں، اور ہم اس صنعت کی نگرانی کے لیے ایک باقاعدہ کمیٹی تشکیل دینے پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ملاقات میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے مقامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جن علاقوں میں یہ ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے جائیں گے، وہاں کے مقیم لوگوں کو مالی طور پر بہت زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔

اسی تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دیگر عالمی امور پر بھی بات کی اور کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال انتہائی خراب ہے، اور یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ ابھی ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک وہ اقتدار میں ہیں، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن ٹھیک رہیں گے۔