آبنائے ہرمز میں کشیدگی، 3 جہازوں پر میزائل حملہ

کشیدگی میں اضافہ، ایرانی میڈیا کی تصدیق، امریکی سینٹکام نے ایرانی کنٹرول کا دعوی مسترد کردیا

September 30, 2026 · اہم خبریں

آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جہاں نامعلوم میزائل حملوں میں 3 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا اور برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق حملے کی زد میں آنے والے جہازوں میں ایک تیل بردار جہاز، ایک ایل این جی جہاز اور ایک تجارتی جہاز شامل ہے، جنہیں نامعلوم سمت سے داغے گئے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور متعلقہ ادارے مزید تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے ایرانی دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایران کے پاس اب مؤثر بحریہ موجود نہیں ہے کیونکہ امریکی افواج پہلے ہی اسے تباہ کر چکی ہیں۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ دعویٰ کہ پاسداران انقلاب اس آبی گزرگاہ پر مکمل اختیار رکھتی ہے، حقائق کے برعکس ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران آبنائے ہرمز کے راستے ایک ارب بیرل سے زائد خام تیل کامیابی کے ساتھ منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ اس اہم آبی گزرگاہ سے ہزاروں تجارتی جہاز بھی آزادانہ طور پر گزرے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ جہازوں کی یہ محفوظ اور آزادانہ آمدورفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران اس تزویراتی گزرگاہ کو کنٹرول نہیں کر رہا۔ اس کے علاوہ اتحادی افواج نے گزرگاہ کے اہم حصوں کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے موقع پر سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم انہوں نے اس معاملے پر سفارتی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے امریکی مؤقف کے حتمی جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی شرائط بالکل واضح ہیں جن سے پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔