وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت اجلاس، ویٹرنری ادویات پر بارکوڈ سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ
اہم پیش رفت، جعلی ادویات کا خاتمہ ناگزیر ہے، صنعت کی ساکھ مضبوط ہوگی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان ویٹرنری فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ویٹرنری ادویات پر 2D بارکوڈ نظام کے نفاذ اور ٹریس ایبلٹی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جعلی ادویات کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس سے معیاری فارماسیوٹیکل صنعت کی ساکھ مزید مضبوط ہوگی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ویٹرنری اور پولٹری ادویات کی محفوظ، مستند اور قابلِ تصدیق فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ادویات پر 2D بار کوڈ کے نفاذ کے لیے ڈیڑھ سال سے کام جاری ہے۔ وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ بارکوڈ کا یہ جدید نظام جعلی اور غیر معیاری ویٹرنری اور پولٹری ادویات کی روک تھام میں انتہائی معاون ثابت ہوگا، کیونکہ جانوروں میں استعمال ہونے والی ادویات بھی بالآخر انسانی صحت سے براہِ راست جڑی ہوتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ون ہیلتھ کے اصول کے تحت ویٹرنری ادویات کے مؤثر ضابطے اور نگرانی کو لازمی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں اور لاہور کے میڈیکل اسٹورز پر کی جانے والی کارروائیوں کے دوران 16 مختلف ادویات کے غیرمعیاری اور جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹس کے مطابق متعدد ادویات کے مخصوص بیچ غیرمعیاری، ملاوٹ شدہ یا جعلی قرار دیے گئے ہیں۔ متاثرہ ادویات میں دمہ اور الرجی کی علامات کے لیے استعمال ہونے والی دوا، خون کے لوتھڑے روکنے والی دوا، وٹامن بی کی کمی اور اعصابی مسائل کی دوا کے علاوہ پٹھوں کے کھچاؤ کی دوا بھی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق، سانس اور کھانسی کے شربت میں مقررہ حد سے زیادہ نقصان دہ کیمیکل کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ جانوروں کے علاج میں استعمال ہونے والی لمپی اسکن ویکسین اور مختلف بیکٹیریل بیماریوں کی دوا بھی غیرمعیاری یا جعلی قرار دی گئی ہے، جبکہ سوزش اور شدید الرجی کے علاج والے انجیکشن کی دو کھیپ تحقیقات مکمل ہونے تک روک دی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام نے تمام متاثرہ ادویات کی فروخت اور استعمال فوری طور پر روکنے کی سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔