امریکہ کا ایران کی 7 روزہ جنگ بندی تجویز پر باضابطہ جواب موصول

اہم سفارتی پیش رفت، وزیر خارجہ نے کابینہ کو آگاہ کر دیا، عملدرآمد کی ترتیب پر اختلافات برقرار ہیں۔

September 30, 2026 · اہم خبریں

تہران کو جنگ ختم کرنے سے متعلق اپنی تازہ ترین تجویز پر امریکہ کا باضابطہ جواب موصول ہو گیا ہے، جس کی ایرانی حکومت کی جانب سے باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوحہ میں قطری ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے والا امریکی جواب صدر مسعود پزشکیان کے سامنے کابینہ کے اجلاس میں پیش کر دیا۔

صدر مسعود پزشکیان نے کابینہ کے اجلاس کے دوران اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اس معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا، تاہم کسی بھی سمجھوتے کی بنیاد دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول اور باہمی مفاد پر مبنی ہونی چاہیے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق، ایرانی حکام نے تحال امریکی جواب کے مندرجات ظاہر نہیں کیے ہیں اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ واشنگٹن نے تہران کی پیشکش مسترد کی ہے یا مذاکرات آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

مذاکرات سے باخبر ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف مجوزہ اقدامات کی ترتیب پر ہے۔ ایران نے گزشتہ ہفتے ایک 7 روزہ منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت تہران نے شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو 7 دن کے اندر معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھولنے اور اس کے بعد وسیع تر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی تھی، جبکہ اس کے بدلے میں امریکہ پر ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اس کشمکش کے دوران قطری اور پاکستانی ثالثوں نے سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو عوامی طور پر مسترد کر دیا تھا، تاہم تہران کا مؤقف تھا کہ اسے واشنگٹن کی جانب سے باضابطہ جواب کا انتظار ہے۔ اب امریکی جواب باضابطہ طور پر موصول ہونے کے بعد سفارتی کوششوں کا اگلا مرحلہ انتہائی اہم ہو گیا ہے، تاہم جب تک جواب کی مکمل شرائط سامنے نہیں آتیں، یہ واضح نہیں ہو سکے گا کہ دونوں ممالک جنگ بندی کے قریب پہنچ رہے ہیں یا مذاکرات میں مزید اختلافات سامنے آئیں گے۔