عراق سے دو دہائیوں بعد امریکی افواج کا انخلا مکمل، یوم خودمختاری کا اعلان
فوجی اڈے خالی، تاریخی انخلا مکمل ہو گیا، یکم اکتوبر کو جشن منایا جائے گا،
عراق سے امریکی افواج کے انخلا اور فوجی اڈوں کی منتقلی کا منظر
عراق میں 2 دہائیوں سے زائد عرصے تک موجود رہنے کے بعد امریکی افواج نے ملک سے اپنا باقاعدہ مشن ختم کرتے ہوئے انخلا مکمل کر لیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق طے شدہ معاہدے کے تحت امریکا نے اپنے بقیہ تمام فوجی دستے اور جنگی اثاثے عراق سے نکال لیے ہیں اور آخری امریکی فوجی اڈوں کا کنٹرول بھی باضابطہ طور پر عراقی فورسز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی مشن کے خاتمے کی خوشی میں عراقی فوج نے دارالحکومت بغداد اور نجف کی سڑکوں پر فوجی گاڑیوں کے ساتھ شاندار پریڈ کی۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر کو یومِ خودمختاری کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ عراقی حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا سے ایران نواز دھڑوں کے پاس اسلحہ رکھنے کا وہ جواز ختم ہو جائے گا جو وہ اب تک استعمال کرتے آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور عراق کے درمیان 2024 میں اس فوجی مشن کو ختم کرنے پر اتفاق ہوا تھا جس کے بعد فوجی رفتہ رفتہ ملک بھر کے اڈوں سے نکل کر صرف شمالی کردستان کے خود مختار علاقے تک محدود ہو گئے تھے۔ آخری مرحلے میں نیم خودمختار کردستان کے اربیل ہوائی اڈے پر قائم آخری بیس سے بھی امریکی دستے روانہ ہو گئے۔ عراقی وزارت دفاع کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں اب اتحادی افواج کا کوئی دستہ موجود نہیں ہے، تاہم امریکا اور عراق کے درمیان فوجی و سیکیورٹی تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ امریکی افواج نے 2003 میں عراقی صدر صدام حسین کی حکومت ختم کرنے کے لیے عراق پر حملہ کیا تھا اور 2011 کے اختتام پر امریکی افواج واپس چلی گئی تھیں، لیکن 3 سال بعد جب داعش نے عراق کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا تو امریکی افواج عراق واپس آگئیں۔ اس طویل تنازع اور جنگ کے دوران 4,500 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ 2 لاکھ سے زائد عراقی شہری بھی لقمہ اجل بنے۔ دوسری جانب، ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اس انخلا پر جشن منایا گیا ہے جبکہ ایران نے اسے اپنے اتحادی گروہوں کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔