امریکا میں 200 سال بعد خاتون کو سزائے موت دینے کا فیصلہ
کرسٹا پائیک نامی خاتون کو 1995 میں ہونے والے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
امریکا میں 200 سال بعد خاتون کو سزائے موت دینے کا فیصلہ
امریکی ریاست ٹینیسی میں تقریباً دو صدیوں بعد ایک خاتون کو سزائے موت دیے جانے کا امکان ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق کرسٹا پائیک نامی خاتون کو 1995 میں ہونے والے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق کرسٹا پائیک نے اس وقت 18 سال کی عمر میں اپنے 17 سالہ بوائے فرینڈ اور ایک دوسرے ساتھی کے ساتھ مل کر 19 سالہ خاتون کو قتل کیا تھا۔ کرسٹا پائیک اور اس کے بوائے فرینڈ نے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا، جس کے بعد دونوں کو 1996 میں مجرم قرار دیا گیا۔
عدالت نے کرسٹا پائیک کو سزائے موت سنائی جبکہ اس کے ساتھی کو عمر قید کی سزا دی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اب 50 سالہ کرسٹا پائیک کو زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔ اگر سزا پر عمل درآمد ہوتا ہے تو وہ ٹینیسی میں دو سو سال سے زائد عرصے کے دوران سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوں گی۔
رپورٹس کے مطابق کرسٹا پائیک کو 2001 میں ایک اور قیدی پر جان لیوا حملے کی کوشش کے الزام میں بھی سزا سنائی گئی تھی۔
ٹینیسی کے گورنر بل لی نے بھی کرسٹا پائیک کی رحم کی اپیل مسترد کردی ہے۔ اپیل میں اس کے بچپن کے صدمات اور جنسی استحصال سمیت دیگر حالات کا حوالہ دیا گیا تھا۔