قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا سے رابطے جاری ہیں، عباس عراقچی
آبنائے ہرمز کھلنے کی صورت میں بحری جہازوں کو ایران اور عمان کے درمیان طے شدہ راستہ استعمال کرنا ہوگا۔
قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا سے رابطے جاری ہیں، عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران، فوجی کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے لیے قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا سے رابطے میں ہے۔
عراقی ٹی وی نیٹ ورک الاخباریہ کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے۔ ان کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حوالے سے اتفاق رائے ہو چکا ہے اور جہازوں کی آمدورفت کے لیے مخصوص راستوں کا نقشہ بھی تیار کیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلنے کی صورت میں بحری جہازوں کو ایران اور عمان کے درمیان طے شدہ راستہ استعمال کرنا ہوگا۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے بتایا کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کی لڑائی ختم کرانے کے لیے ایران کی جانب سے ثالثی کی پیشکش پر تاحال کوئی جواب نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یمن تنازع میں مصر کی ممکنہ فوجی مداخلت سے متعلق سوال پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق مصر ماضی میں ایران کو آگاہ کر چکا ہے کہ وہ یمن کے تنازع میں براہ راست مداخلت نہیں کرے گا۔