امریکہ نے سعودی عرب سے غیر ضروری سفارتی عملے کو نکلنے کا حکم دے دیا
سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات، امریکی حکومت نے غیر ہنگامی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا
واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے سکیورٹی خطرات کے پیش نظر 23 اکتوبر 2026 سے سعودی عرب میں غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
امریکی مشن سعودی عرب کی جانب سے 27 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ سکیورٹی الرٹ کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثی سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور سفری نظام میں شدید خلل پیدا ہوا ہے۔ الرٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں میں فوری طور پر مزید شدت آسکتی ہے۔
الرٹ کے مطابق مملکت میں ہوائی اڈوں پر حالیہ میزائل اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں (یو اے وی) کے حملوں کے بعد سعودی عرب میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کو کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال کے لیے مشن کے سربراہ سے خصوصی اجازت لینا ضروری ہے۔
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کی صورتحال
– کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ریاض: 23 اکتوبر سے اندرونِ ملک پروازوں اور قومی فضائی کمپنیوں کی بعض بین الاقوامی پروازوں کے لیے جزوی طور پر دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ ریاض کے اس ہوائی اڈے پر معمول کے مطابق موجود محدود تعداد میں پروازیں قصیم کے شہزادہ نایف بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بھی چلائی جارہی ہیں۔
– کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جدہ: یہاں آپریشن جاری ہیں، تاہم بعض پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کی اطلاعات ہیں۔
– کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دمام: یہاں بھی آپریشن جاری ہیں، لیکن بعض پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کا سامنا ہے۔
امریکی مشن نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب میں ہوائی اڈوں پر ممکنہ حملوں، فضائی حدود کی بندش، پروازوں کی منسوخی اور سفری رکاوٹوں کا خدشہ موجود ہے۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرنے والے امریکی شہری انتہائی احتیاط برتیں۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ سفر سے قبل اپنی پرواز کی روانگی کی صورتحال متعلقہ فضائی کمپنی اور ہوائی اڈے سے براہِ راست معلوم کریں۔