کویت: ایران کے لیے جاسوسی اور نائب وزیراعظم کے قتل کی سازش پر 3 مجرموں کو سزائے موت
سنگین نوعیت کا فیصلہ، حزب اللہ سے روابط ثابت، 8 ملزمان کو قید کی سزائیں سنائی گئیں
فائل فوٹو
کویت سٹی: کویت کی فوجداری عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی کرنے، کالعدم یا لبنانی تنظیم حزب اللہ سے وابستگی رکھنے اور ملک کے پہلے نائب وزیر اعظم و وزیر داخلہ کو قتل کرنے کی سازش کے مقدمے میں 3 افراد کو سزائے موت سنادی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کویتی عدالت کے ریاستی سلامتی ڈویژن نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے 3 مجرموں کو سزائے موت جبکہ دیگر 8 کویتی شہریوں کو 5، 5 سال قید کی سزا سنائی ہے
۔ عدالتی دستاویزات اور خبررساں اداروں کے مطابق سزائے موت پانے والے افراد کی شناخت حسین عبداللہ المطوق، حسن عبدالہادی حاجی اور عبدالرضا حیدر دہقانی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ مقدمے کی سماعت جج ناصر البدر کی سربراہی میں قائم پینل نے کی۔
دستاویز کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے کویت کے قومی مفادات کو شدید نقصان پہنچانے, ایران کے ساتھ خفیہ تعاون کرنے اور ریاست کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ استغاثہ کے مطابق مجرموں نے کویت کے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ شیخ فہد الیوسف کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی جس کے لیے مختلف ذمہ داریاں بھی تقسیم کی گئی تھیں جبکہ خوف و ہراس پھیلانے کے لیے دھماکا خیز مواد استعمال کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں لبنانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے ایران سے فنڈنگ ملنے کے بعد اپنی فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کرنا شروع کر دیا ہے۔ حزب اللہ کو حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا تاہم لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ گروپ ڈرونز کی تیاری اور دھماکہ خیز مواد کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔
حزب اللہ کے میڈیا آفس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنانی سرزمین پر اسرائیل کا قبضہ اس کے خلاف مزاحمت کو ایک جائز حق بناتا ہے، اور خطے میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی ادارے انتہائی الرٹ ہیں۔