اسرائیلی انتخابات میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ،نیتن یاہو کی جماعت کی وقت بڑھانے کی درخواست

اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کی 120 نشستوں کے لیے سات کروڑ نہیں بلکہ 73 لاکھ سے زیادہ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں

October 27, 2026 · بام دنیا
 سابق اسرائیلی آرمی چیف آف اسٹاف گیڈی آئزن کوٹ ووٹ ڈال رہے ہیں

 سابق اسرائیلی آرمی چیف آف اسٹاف گیڈی آئزن کوٹ ووٹ ڈال رہے ہیں

تل ابیب: اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق پارلیمانی انتخابات کے پہلے 11 گھنٹوں میں اہل ووٹرز میں سے 66.7 فیصد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جو ووٹنگ کی شرح کا نیا ریکارڈ ہے۔

کمیشن نے کہا کہ ووٹنگ میں ٹرن آؤٹ نے ’تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں‘۔ پولنگ ختم ہونے میں اب تقریباً 4 گھنٹے باقی ہیں۔

اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کی 120 نشستوں کے لیے سات کروڑ نہیں بلکہ 73 لاکھ سے زیادہ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

انتخابی تجزیہ کار اب بھی محتاط ہیں کہ ووٹرز کی غیر معمولی شرکت انتخابی نتائج پر کیا اثر ڈالے گی۔

فلسطینی النسل اسرائیلی شہریوں کی زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے سے بنیامن نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو نشستیں حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انتخابی حکام سے ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی ہے تاکہ اسے اپنے حامیوں کو پولنگ اسٹیشنوں تک لانے کے لیے مزید وقت مل سکے۔

لیکوڈ نے ٹیلی گرام پر ایک پیغام میں کہا کہ اس نے ووٹنگ کے اوقات میں توسیع کی درخواست جمع کرا دی ہے۔

بنیامن نیتن یاہو اور ان کے حامی اسرائیلی میڈیا ادارے عرب اسرائیلی شہریوں کی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

اسرائیل کی اہم عرب جماعتوں میں سے ایک، یونائیٹڈ عرب لسٹ کے رہنما منصور عباس نے نیتن یاہو پر کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا۔

ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’بنیامن نیتن یاہو جھوٹ بول رہے ہیں اور یونائیٹڈ عرب لسٹ کے خلاف اشتعال انگیزی کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی حامی سمجھی جانے والی ٹی وی چینل 14 نے عرب اسرائیلی شہریوں کی بڑی تعداد میں ووٹنگ سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سے ’انتخابات کی شفافیت‘ متاثر ہو سکتی ہے۔

بنیامن نیتن یاہو بھی انتخابات ’چوری‘ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کر چکے ہیں، حالانکہ مرکزی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے اب تک کسی بے ضابطگی کا مشاہدہ نہیں ہوا۔

اخبار ہاریتز کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے اسرائیل کے فلسطینی علاقوں میں واقع پولنگ سٹیشنوں پر مبصرین تعینات کرنے کے لیے لاکھوں شیکل خرچ کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لیکوڈ اس صورتِ حال کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے کہ اگر اسے انتخابات میں شکست ہوئی تو وہ نتائج کو ’چوری شدہ‘ قرار دے سکتی ہے۔

نیتن یاہو نے ایکس پر چینل 14 کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں بریکنگ نیوز کے دوران عرب شہریوں کے پولنگ سٹیشنوں پر غیر معمولی ہجوم دکھایا گیا تھا۔

اسرائیل میں پولنگ کب ختم ہوگی؟

منگل کے روز صبح 7 بجے (مقامی وقت) شروع ہونے والی پولنگ رات 10 بجے ختم ہوگی۔ اسرائیل کے 12 لاکھ فلسطینی شہریوں سمیت مجموعی طور پر 73 لاکھ اسرائیلی شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل میں بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے لیے ‘ایبسنٹی بیلٹ’ کا عمومی قانون نہیں ہے اس لیے ووٹرز کا پولنگ کے دن جسمانی طور پر موجود ہونا لازمی ہے۔ تاہم سفارت کاروں اور ریاستی نمائندوں کو استثنیٰ حاصل ہے جنہوں نے 20 اکتوبر کو اسرائیلی مشنز میں اپنے ووٹ کاسٹ کیے تھے۔

سنٹرل الیکشنز کمیٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صبح 7 بجے سے دوپہر 12 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 31.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ 1973 میں ہونے والے انتخابات سے لے کر آج تک دن کے اس مخصوص وقت پر ریکارڈ کیا جانے والا یہ سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہے۔

انتخابی نتائج کا اعلان کب ہوگا؟

پولنگ ختم ہوتے ہی نیوز چینلز ایگزٹ پول کے نتائج نشر کرنا شروع کر دیں گے اور ابتدائی رجحانات چند گھنٹوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم حتمی اور واضح نتائج آنے میں کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں۔

نتائج سنٹرل الیکشنز کمیٹی کی ویب سائٹ پر بھی لائیو دستیاب ہوں گے۔ اگر کوئی ایک جماعت یا اتحاد واضح اکثریت (61 نشستیں) حاصل نہیں کر پاتا تو حکومت سازی کے عمل میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔

حتمی ووٹوں کی گنتی جمعے تک مکمل ہونے کی امید ہے جب کہ سرکاری اور باضابطہ انتخابی نتائج انتخابات کے ایک ہفتے بعد 4 نومبر کو شائع کیے جائیں گے۔