بریکنگ سعودی عرب کی ایرانی حملے روکنے کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مشاورت

ریاض میں اہم ملاقات، ایران عقل مندی سے کام لے، غلط حساب نہ لگائے، وزیر دفاع خالد بن سلمان

               

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ایران پر زور دیا کہ وہ ’عقلمندی سے کام لے اور کسی غلط فہمی سے گریز کرے۔

یہ درخواست اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب کو بار بار میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ان حملوں کو روکنے کیلئے سعودی عرب نے پاکستان سے مشاورت کی ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد سعودی وزیر دفاع نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا ’ہم نے سعودی عرب پر ایران کے حملوں اور انہیں روکنے کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ایرانی فریق دانشمندی سے کام لے گا اور کسی غلط فہمی سے گریز کرے گا۔

انہوں نے یہ لکھا کہ ’اس ملاقات میں مملکت پر ایرانی حملوں اور انھیں روکنے کے لیے مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت درکار اقدامات پر بات چیت کی گئی۔’

 

شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز نے ریاض میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بھی اس ملاقات پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ “چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور مملکت کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے ایران کی جانب سے مملکت پر ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی اور انہیں روکنے کے لیے اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت درکار مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔”

 

بیان کے مطابق “اس بات پر زور دیا گیا کہ بلااشتعال جارحیت علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے امکانات کو محدود کرتی ہے۔ دونوں فریقوں نے امید اور خواہش کا اظہار کیا کہ برادر ملک ایران کسی بھی غلط اندازے سے بچنے کے لیے دانشمندی اور بصیرت کا مظاہرہ کرے گا اور بحران کے پرامن حل کے خواہاں دوست ممالک کی کوششوں کو تقویت دے گا۔”

سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملاقات میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایران دانشمندی اور عقل مندی سے کام لے گا اور غلط حساب کتاب سے گریز کرے گا۔

ملاقات میں سعودی عرب کی جانب سے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور وزیرِ دفاع کے مشیر برائے انٹیلی جنس ہشام بن عبدالعزیز بن سیف شریک ہوئے۔

پاکستانی وفد میں فیلڈ مارشل کے سیکریٹری میجر جنرل محمد جواد طارق موجود تھے۔

 پاک سعودی دفاعی تعاون اور مشترکہ دفاع کا معاہدہ

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاع کا ایک معاہدہ موجود ہے جس کے تحت ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور ہوگا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا آغاز اور پسِ منظر

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کی بنیاد دہائیوں پرانی ہے، جس کا باقاعدہ آغاز 1967 اور پھر 1982 کے پروٹوکول معاہدوں سے ہوا تھا۔ ان معاہدوں کے تحت پاکستان نے حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے لیے اپنی افواج وہاں تعینات کرنے کا عہد کیا۔

حالیہ برسوں میں، خاص طور پر فروری 2024 اور اس کے بعد ہونے والی اعلیٰ سطحی عسکری ملاقاتوں میں ان تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنر شپ یا “تزویراتی شراکت داری” میں بدل دیا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی رکاوٹوں کو ختم کر کے ایک مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک تشکیل دینا ہے۔

اس تعاون کے مقاصد میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے۔

ستمبر 2025 میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (SMDA) پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت اگر پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو دوسرے ملک پھر بھی حملہ تصور کیا جائے گا۔