ایران نے خلیجی ممالک پر مزید میزائل برسا دیئے، بحرین کی ریفائنری بند
سعودی عرب، قطر اور امارات بھی نشانہ بنے، حکومت ریاض نے نیا بیان جاری کردیا
بحرین کی آئل ریفائنری پر پانچ مارچ کو ہونے والے حملے کے بعد آگ لگی ہوئی ہے۔
ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو پیر کے روز ایک بار پھر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں، دھماکوں اور تیل کی تنصیبات کو نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز نے خلیجی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں متعدد ممالک نے حملوں کی اطلاع دی ہے جبکہ کئی جگہوں پر فضائی دفاعی نظام متحرک کر دیے گئے۔ بحرین کی سرکاری تیل کمپنی نے اپنے ریفائنری کمپلیکس پر پانچ مارچ کو ہونے والے حملے اور آگ لگنے کے بعد پیر کے روز تیل کی ترسیل کے حوالے سے فورس میجور کا اعلان کر دیا یعنی ایسی صورت حال جس میں وہ اپنے کاروباری معاہدے پورے کرنے کے قابل نہیں۔۔
بحرین کی سرکاری توانائی کمپنی بپکو نے بیان میں کہا کہ علاقائی جنگ اور حالیہ حملوں کے باعث اس کے گروپ آپریشنز متاثر ہوئے ہیں، جس کے بعد کمپنی نے اپنی شپمنٹس کے لیے فورس میجر نافذ کر دی ہے۔
ادھر سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی طرف آنے والے چار ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت نے بھی ایرانی میزائل حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔
اتوار کو سعودی عرب کے الخرج گورنریٹ کے ایک رہائشی علاقے میں ایک میزائل گرنے سے کم از کم دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے تھے۔
پیر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے صحافیوں کے مطابق مقامی وقت کے مطابق تقریباً 3 بج کر 15 منٹ پر الرٹس جاری کیے گئے، جس کے چند ہی منٹ بعد فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے انٹرسیپٹر میزائل فائر کیے گئے اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
بحرین میں دارالحکومت منامہ کے جنوب میں واقع سِترہ کے علاقے میں ایرانی ڈرون حملے میں بچوں سمیت کم از کم 32 افراد زخمی ہوئے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں بھی رات بھر فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں مصروف رہا۔
متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ کے آئل انڈسٹری زون میں بھی ایک ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد اس کے ملبے سے آگ لگنے کی اطلاع دی گئی۔
دوسری جانب سعودی عرب نے ایران کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مملکت ایران کی جانب سے سعودی عرب، خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور دیگر عرب و دوست ممالک پر حملوں کی سخت مذمت کرتی ہے۔
#Statement | The Foreign Ministry reiterates the Kingdom of Saudi Arabia’s firm condemnation of the Iranian attacks against the Kingdom and the member states of the Gulf Cooperation Council, as well as a number of Arab, Islamic, and friendly countries, which cannot be accepted or… pic.twitter.com/edsDAJnSnF
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) March 9, 2026
قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے ایک انٹرویو میں تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ قطر ایران کے ساتھ رابطے جاری رکھے گا تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے قطر پر حملوں کو ایرانی قیادت کی جانب سے “بڑی بے وفائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے صرف ایک گھنٹے کے اندر ہی قطر اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا، حالانکہ خطے کے کئی ممالک پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ وہ ایران کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔