لائیو جنگ 29 واں دن: یمن کے حوثی بھی لڑائی میں شامل، ایران کے مزید حملے، ایک اور امریکی بیڑہ روانہ
ایران جنگ پر تازہ ترین اپ ڈیٹس
اہم نکات
-
- ہفتہ 28 مارچ کو جنگ 29 ویں روز میں داخل ہوگئی۔
- امریکہ کا ایک اور بحری بیڑہ علاقے کی طرف روانہ ہوگیا۔
- ایران نے خلیجی ممالک پر مزید حملے کیے ہیں۔ سعودی عرب میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوگئے۔
دفتر خارجہ نے کہاہے کہ ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی دعوت پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان اور مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اتوار سے اسلام آباد کا دو روزہ دورہ کریں گے۔ وفود کی اتوار کی شام تک پاکستان آمد متوقع ہے۔
دفتر خارجہ نے ایک بیان میں بتایا کہ دورے کے دوران وزرائے خارجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت متعدد امور پر تفصیلی مشاورت کریں گے۔ ’معزز مہمان وزیر اعظم سے بھی ملاقات کریں گے۔بیان کے مطابق پاکستان سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے برادر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے
یہ دورہ باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔
اسحٰق ڈار نے بھی نجی ٹی وی سے گفتگو میں اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مہمان وزرائے خارجہ پیر کو وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری ملاقات ترکی میں طے تھی، تاہم مصروفیات کی وجہ سے میں نے بھائیوں کو اسلام آباد میں دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے اور ’ایمان داری، نیک نیتی سے تنازع ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کایہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات کے باعث میڈیا پر بات چیت کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
اس سے قبل ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بھی اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کے حوالے سے بتایا تھا۔ان کے مطابق ،یہ اجلاس پہلے ترکی میں ہونا طے پایا تھاتاہم، چونکہ ہمارے پاکستانی ہم منصبوں کا اپنے ملک میں رہنا ضروری ہے، اس لیے ہم نے اجلاس پاکستان منتقل کر دیا ہے۔فیدان نے کہا تھا کہ ان مذاکرات میں چاروں مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نےدعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران میں شیراز کے قریب ایک رہائشی علاقے میں امریکی ساختہ لینڈ مائنز پھیلائی گئی ہیں۔ یہ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد امریکی فوج کی جانب سے ان ہتھیاروں کا پہلا تصدیق شدہ استعمال بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں جو سلسلہ وار آلات دکھائی دے رہے ہیں، انہیں چار ماہرین اورسی این این کی تجزیاتی ٹیم نے امریکی BLU-91/Bاینٹی ٹینک مائنز قرار دیا ہے۔ یہ مائنزاس نظامGator کا حصہ ہیں، جو طیاروں سے پھیلائی جاتی ہیں۔
مائنز شیراز کے قریب’’کافاری ‘‘نامی گاؤں میں پائی گئی ہیں، اور ایرانی میزائل اڈےسے تقریباً 2 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔ یہ مائنز حالیہ امریکی آپریشن ’’ ایپک فیوری ‘‘ میں فضائی مہم کے دوران گرائی گئیں۔ اس کا مقصد ایرانی میزائل لانچرز اور انڈر گراؤنڈ سہولیات تک رسائی روکنا بتایا جا رہا ہے۔
Gator سسٹم 1لاکھ 30 ہزار مربع کلومیٹرتک وسیع علاقے میں مائنز پھیلاتا ہے، جو فوجی اہداف اور سولین علاقوں میں فرق نہیں کرتا۔
مائنز میں ٹائمرز لگے ہوتے ہیں، جو 4 گھنٹے سے لے کر 15 دن تک فعال رہ سکتے ہیں، ان کی وجہ سے نہ پھٹنے والی مائنز لمبے عرصے تک خطرہ بنے رہتی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، ان مائنز کی وجہ سے کم از کم ایک دیہاتی کی موت ہوئی جس نے ایک “ٹن کین” جیسی چیز کو اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ترک میڈیاکا کہناہے کہ کئی لوگ زخمی بھی ہوچکے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو مشکوک اشیا سے دوررہنے کی ہدایت دی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے معاملے پر شدید تشویش کااظہار کیاہے۔

متحدہ عرب امارات کے حکام کے مطابق آج صبح ہونے والے حملے کے نتیجے میں ابوظہبی میں خلیفہ اکنامک زون کے قریب، خلیفہ پورٹ کے اطراف ملبہ گرنے سے پاکستانی سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے اور تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔
ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق اسی مقام پر تیسری آگ لگنے کی بھی اطلا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس واقعے میں ایک پاکستانی شہری بھی زخمی ہوا ہے، جس کے بعد زخمیوں کی مجموعی تعداد چھ ہو گئی ہے، اور ان کی چوٹیں معمولی سے درمیانی نوعیت کی ہیں۔
مزید کہا گیا کہ حکام نے تینوں آگوں پر قابو پا لیا ہے اور اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔
کویت میں متعدد ڈرون حملوں نے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے ریڈار نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سول ایوی ایشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ اہم تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے باوجود کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران دو فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔
آئی ڈی ایف نے ایکس پر کہا کہ گزشتہ روز راکٹ حملے کے دوران ایک افسر شدید زخمی ہوا اور چھ دیگر فوجی معمولی زخمی ہوئے۔
اس کے علاوہ ایک اور افسر اینٹی ٹینک میزائل فائرنگ میں شدید زخمی اور ایک دوسرے افسر کو معمولی چوٹیں آئیں۔
جنوبی لبنان کے علاقے کفر تبنیت میں سول ڈیفنس کی ایک ایمبولینس پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں طبی عملے کا ایک کارکن جاں بحق جبکہ چار دیگر زخمی ہو گئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ ایک اضافی جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ذمہ داران کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
عمان کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دو ڈرونز نے جنوبی صوبہ دھوفار کے دارالحکومت صلالہ کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا۔
اس واقعے میں ایک غیر ملکی مزدور زخمی ہوا اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اس کے علاوہ بندرگاہ کی سہولیات میں ایک کرین کو معمولی نقصان پہنچا۔
ایرانی سیکیورٹی فورسز نے گلستان کے شمالی صوبے میں مسلح حملے کی سازش کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا اور دہشت گرد سیل تباہ کردیا ہے۔
عہدیداروں کے مطابق، انٹیلی جنس یونٹس نے عوامی رپورٹس اور نگرانی کے بعد ایک ایسے سیل کی نشاندہی کی جو امریکہ اور اسرائیل سے منسلک بتایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، مشتبہ افراد کو سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والی کارروائی کرنے سے پہلے حراست میں لے لیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ گرگان شہر میں ایک خفیہ ٹھکانے پر چھاپے کے دوران چار کولٹ رائفلز اور 43 گولیاں برآمد ہوئیں۔

ایک اور امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔
یہ طیارہ بردار بحری بیڑہ 80 سے زائد طیارے لے جا سکتا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ میں تعینات کیا جائے گا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر کیریئر اور اس کے سٹرائیک گروپ نے اس ماہ کے شروع میں تعیناتی سے پہلے کی تربیت مکمل کی تھی اور اب وہ ایران میں امریکی کارروائیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل دو گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر – یو ایس ایس ڈونلڈ کک اور یو ایس ایس میسن بھی اس ہفتے ایران میں امریکی کارروائیوں میں شامل ہونے کے لیے امریکہ سے روانہ ہوئے تھے۔
گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائیر یو ایس ایس راس بھی اس ہفتے امریکہ سے روانہ ہوا ہے، تاہم اس کی منزل کو ظاہر نہیں کیا گیا۔

تھائی لینڈ کے وزیراعظم انوتین چارنویراکول نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے تہران کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت تھائی آئل جہازوں کو بحر ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
انوتین نے کہا کہ یہ پیش رفت تھائی لینڈ کی توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو کم کرے گی، کیونکہ ملک مشرق وسطیٰ سے تیل کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں ایک تھائی پرچم والا کارگو جہاز بحر ہرمز میں نامعلوم پروجیکٹائل سے ٹکرایا گیا تھا۔ جہاز کے عملے کو بعد میں عمان کی بحریہ نے بچا لیا، تاہم تین عملے کے افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے عوامی الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ محفوظ مقامات کی طرف جائیں۔
وزارت نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ سائرن بجا دیے گئے ہیں۔ شہریوں اور مقیم افراد سے گزارش ہے کہ پر سکون رہیں اور قریبی محفوظ مقام کی طرف چلے جائیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے اسرائیلی حدود کی جانب داغے گئے ایک میزائل کی نشاندہی کی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد یمن سے داغا جانے والا یہ پہلا میزائل ہے۔
اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ ’آئی ڈی ایف نے یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب میزائل داغے جانے کی نشاندہی کی ہے اور فضائی دفاعی نظام اس خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ابوظہبی کے سرکاری میڈیا آفس نے کہا ہے کہ روکنے والے بالسٹک میزائلوں کے ملبے سے پانچ بھارتی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔
میڈیا آفس کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
آفس نے مزید بتایا کہ حکام شہر کے خلیفة اکنامک زونز میں میزائل کے ملبے سے لگنے والی دو آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی فورسز نے آج صبح کے وقت تہران کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو نشانہ بنایا۔ اس رپورٹ میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس واقعے کے بارے میں ابھی تک کسی سرکاری بیان میں ہلاکتوں یا نقصان کے بارے میں تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

جی سیون ممالک نے ایران جنگ میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچوں پر حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں علاقائی شراکت داروں، شہری آبادیوں اور اہم انفرا اسٹرکچر پر تنازع کے اثرات کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی محفوظ اور ٹول فری آزادی کو بحال کرنے کی ضرورت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
جی سیون ملکوں کے وزرائے خارجہ کے پیرس میں ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب، برازیل، جنوبی کوریا، بھارت اور یوکرین بھی شریک ہوئے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران میں زمینی فوج اتارے بغیر اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں، ایران جنگ مہینوں نہیں ہفتوں میں ختم ہونے کی توقع ہے۔
فرانس میں جی سیون وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران میں فوجی مقاصد پانے کے باوجود بھی آبنائے ہرمز کھلی رکھنا ایک ’فوری چیلنج‘ بن سکتا ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا جنگ ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر بین الاقوامی تعاون حاصل کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے لیے ٹول سسٹم قائم کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، ہرمز بند کرنا خطرناک ہے، ضروری ہے کہ دنیا کے پاس ایک منصوبہ موجود ہو۔

اسرائیل نے آدھی رات کے وقت بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنایا۔ اس علاقے میں اس سے قبل جبری نقل مکانی کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
گزشتہ چند دنوں اور ہفتوں میں اسرائیلی فوج لبنان کے متعدد علاقوں میں سرگرم رہی ہے۔
خصوصاً آج اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے لبنان کا دورہ کیا اور زمینی آپریشن کے پھیلاؤ کے منصوبوں کے بارے میں بات کی۔ ان کا منصوبہ ہے کہ لیتانی دریا تک ایک “سیکیورٹی زون” قائم کیا جائے۔
حزب اللہ نے لبنانی حدود میں داخل ہونے والے اسرائیلی فوجیوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔
ان حملوں میں ضلع مرجعیون کے لبنانی قصبے القنطرہ میں پانی کے ذخیرے کے قریب دو اسرائیلی مرکاوا ٹینکوں کو بھی نشانہ بنایا۔
حزب اللہ کے مطابق، اس نے قصبہ طیبہ کے قریب لیتانی دریا کی جانب پیش قدمی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کو راکٹوں، توپ خانے کے گولوں اور ڈرونز کے ذریعے بھی نشانہ بنایا۔
اسرائیلی اعلیٰ حکام لبنان کے اندر لیتانی دریا تک قبضہ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، جبکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد شمالی اسرائیل کے تحفظ کے لیے لبنانی حدود میں ایک “بفر زون” قائم کرنا ہے۔

امریکہ میں “نو کنگز” کے نام سے جاری احتجاجی تحریک نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتہ کے روز دوبارہ میدان میں آئے گی، جس کے تحت امریکہ بھر میں 3,000 سے زائد مقامات پر مظاہرے کیے جائیں گے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی جا سکے۔
یہ عوامی سطح کی احتجاجی تحریک جون اور اکتوبر 2025 میں بھی مظاہرے کر چکی ہے، جن میں بالترتیب 50 لاکھ اور بعد ازاں 70 لاکھ افراد نے شرکت کی، اور امریکا بھر میں ہزاروں مقامات پر اجتماعات ہوئے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اس ہفتے کا دن امریکی تاریخ کے بڑے احتجاجی دنوں میں شامل ہو سکتا ہے، جہاں مختلف نوعیت کے مسائل کو اجاگر کیا جائے گا، جن میں ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں اور ایران کے خلاف جنگ بھی شامل ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی، منیاپولس، شکاگو اور سان فرانسسکو میں بڑے مظاہروں کی توقع کی جا رہی ہے۔
جبکہ چھوٹی ریاست ورمونٹ، جس کی آبادی صرف 6 لاکھ 46 ہزار ہے، میں بھی 40 سے زائد احتجاجی مظاہروں کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جیسا کہ برلنگٹن فری پریس نے رپورٹ کیا ہے۔
یو اے ای کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام اور لڑاکا طیارے ایران کی جانب سے آنے والے “میزائلوں اور ڈرونز کے خطرے” کا جواب دے رہے ہیں۔
وزارت نے مزید بتایا کہ مختلف علاقوں میں سنائی دینے والی آوازیں دراصل کروز میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے کے نتیجے میں آ رہی ہیں۔

یمن میں حوثی باغیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو وہ جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔
حوثی باغیوں نے اسرائیل اور امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران حملوں کے لیے بحیرہ احمر کو استعمال کرنے کے خلاف خبردار بھی کیا ہے۔
انصار اللہ گروپ کے فوجی ترجمان، بریگیڈیئر جنرل یحییٰ ساری نے ایک ویڈیو بیان میں تصدیق کی کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ بھی جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بحیرہ احمر کے ذریعے ایران اور کسی بھی مسلم ملک کے خلاف کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بیانات حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی کی جانب سے اس اعلان کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران ضرورت پڑی تو وہ ’فوجی کارروائی‘ میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی دو بڑی سٹیل فیکٹریوں، ایک پاور پلانٹ اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے علاوہ سویلین جوہری مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔‘
ایکس پر اپنے بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل کا دعوی ہے کہ اس نے امریکہ کے ساتھ مل کر یہ کام کیا اور یہ سفارتکاری کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن سے بھی متصادم ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ایران اس پر بھرپور ردعمل دے گا۔
اسرائیلی فوج نے وسطی ایران میں آراک ہیوی واٹر پلانٹ پر حملہ کیا ہے جس سے ری ایکٹر کے قریب آگ کا ایک گولہ اور دھواں اُٹھتا ہوا دکھایا گیا ہے۔
ایران کے جوہری توانائی کے ادارے نے تصدیق کی ہے کہ اراک کی تنصیب کو دو بار نشانہ بنایا گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران نے سعودی عرب کی پرنس سلطان ائیربیس پر میزائل حملہ کر دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی میزائل حملے میں امریکہ کے کئی ری فیولنگ طیاروں کو نقصان پہنچا۔
امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس حملے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے۔

ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں امریکہ کے 6 بحری جہاز تباہ کرنے اور دبئی میں ساحل اور ہوٹل پر حملے کرکے کئی امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیاہے۔
روسی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے، لوگ شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق فوج نے کویت کی الشویخ بندرگاہ پر امریکہ کے 6 ٹیکٹیکل جہازوں کو نشانہ بنایا ہے ۔
ایرانی میڈیا کے مطابق 3 لڑاکا جہاز سمندر میں غرق ہوگئے جبکہ دیگر 3 میں آگ لگی ہوئی ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق وعدہ صادق چہارم نامی آپریشن کے تحت دشمن پر حملے کی 84 ویں لہر میں دبئی کے ساحل اور ایک ہوٹل میں امریکی اہلکاروں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق دونوں حملوں میں کئی امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔
سعودی عرب کے علاقے الخرج میں پرنس سلطان ائربیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعوی کیا گیا ہے جس میں ری فیولنگ اور ائرسپورٹ فلیٹ کو ہدف بنایا گیا۔

ایران میں شہری عمارتوں پر حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے ایرو سپیس کمانڈر مجید موسوی کے ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اب معاملہ آنکھ کے بدلے آنکھ کا نہیں رہے گا، انتظار کریں اور دیکھیں۔‘
پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل سے منسلک صنعتی کمپنیوں کے ملازمین ’اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے بچنے کے لیے فوراً اپنے دفاتر سے نکل جائیں۔‘
موسوی کے اکاؤنٹ نے مزید لکھا کہ ’آپ پہلے بھی ہمیں آزما چکے ہیں۔ دنیا نے دوبارہ دیکھ لیا کہ آپ نے ہی آگ سے کھیلنا شروع کیا اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔‘
ایک الگ پوسٹ میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’ایران اسرائیلی جرائم کی بھاری قیمت وصول کرے گا۔‘
ایرانی میڈیا نے آج رپورٹ کیا ہے کہ مرکزی اصفہان میں واقع مبارکہ سٹیل پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اصفہان گورنریٹ کے ڈپٹی سکیورٹی اینڈ لا انفورسمنٹ آفیسر نے بتایا کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
اسی طرح ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنوبی ایران میں خوزستان سٹیل کمپنی پر بھی حملہ کیا گیا۔ خوزستان گورنریٹ کے ڈپٹی سکیورٹی اینڈ لا انفورسمنٹ آفیسر کے مطابق اس حملے میں 16 افراد زخمی ہوئے۔

فلوریڈا میں میامی پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے ایران کی تازہ صورتِ حال کے بارے میں سوال کیا گیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ تباہ ہو رہے ہیں۔ ہم ان سے بات کر رہے ہیں، وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔
ایران ڈیل چاہتا ہے، اس کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں صدر منتخب نہ ہوتا تو امریکہ اب تک ختم ہوچکا ہوتا، میں نےجرائم پیشہ افراد اور قاتلوں کو امریکا سے نکالا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں دنیا کے برےترین افراد کو امریکہ میں داخل ہونےکی اجازت دی گئی، ہمیں ان پر اعتراض ہے جو امریکہ میں جرائم کرتےہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہماری فوج نےبہترین کام کیا، ایران ڈیل چاہتا ہے، ایران کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے، ہم مذاکرات کررہے ہیں اور اس کا کوئی نتیجہ بھی نکلےگا۔
اس کے علاوہ ٹرمپ نے ایک اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مڈنائٹ ہیمر آپریشن کے بعدبھی ایران نے ایٹمی صلاحیت پرکام جاری رکھا، ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا تھا۔
ان کا کہنا تھاکہ ایران نے سعودی عرب، بحرین،قطر،کویت پر میزائل حملےکیے، ایران اب کبھی بحری جنگی جہاز نہیں بنا سکےگا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نےہمیشہ کہا ہے کہ نیٹو کاغذی شیر ہے، ہم نے ہمیشہ نیٹو کی مدد کی لیکن انہوں نےکبھی ہماری مدد نہیں کی، نیٹو نے ہماری مدد نہ کر کے بڑی غلطی کی ہے، نیٹو کے برعکس سعودی عرب، قطر، یواےای، بحرین،کویت نے مدد کی اور لڑے۔
ٹرمپ نے کہا کہ سعودی ولی عہد میرے دوست ہیں، وہ جنگجو ہیں،ایران سے نہیں ڈرتے، سعودی عرب، یواےای اور قطر کی لیڈرشپ کے شکرگزار ہوں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ترکیے نے معاملے سے خود کو دور رکھا، میرا خیال ہے مشرق وسطی کے تمام ممالک ابراہیم معاہدےمیں شامل ہوں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایرانی رجیم کے خطرے کو ختم کر رہےہیں، ایران 47 سال سے مشرق وسطیٰ میں سب کو ہراساں کر رہا تھا، ایران اب مشرق وسطیٰ میں کسی کو ہراساں نہیں کر سکےگا، کسی کوتوقع نہیں تھی کہ ایران مشرق وسطی پر حملہ کردےگا،آج ہم ایرانی خطرے سے پاک مشرق وسطیٰ کے عروج کے پہلے سےکہیں زیادہ قریب ہیں۔
برطانوی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی نائب صدرجے ڈی وینس کی گزشتہ دنوں اسرائیلی وزیر اعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں خاصا تناؤ تھا۔
اخبار ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ ایران جنگ کو بہت آسان بتا کر ٹرمپ کواس میں شامل کرانے پر جی ڈی وینس نے نیتن یاہو کو جھاڑ پلادی۔
جے ڈی وینس نےالزام لگایا کہ نیتن یاہو نے ایران میں رجیم تبدیلی کے امکانات پر حد سے زیادہ خوش فہمی دکھائی۔ انہوں نے نیتن یاہو کو کہاکہ ٹرمپ کو جو خواب دکھائے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔
ذرائع کےمطابق نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یقین دلایا تھا کہ ایران جنگ اور رجیم چینج آسان ہوگی تاہم امریکی نائب صدر اسرائیلی وزیراعظم کے دعووں کی حقیقت سے واقف تھے۔
برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ اس ٹیلی فون کال کے ایک دن بعد اسرائیلی میڈیا نے گفتگو سے متعلق غلط خبر دی کہ وینس نے فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد پر نیتن یاہو کو جھاڑپلائی۔
وائٹ ہاؤس نے شک ظاہر کیا کہ اسرائیلیوں نے جے ڈی وینس کو بدنام کرنے کے لیے یہ کہانی گھڑی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنائی کی شہادت کے باوجود ایرانی رجیم کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہوئی۔
واضح رہے کہ جے ڈی وینس ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔
اس کال میں وینس نے نیتن یاہو کو بتایا کہ جنگ سے پہلے ان کی پیش گوئیاں بہت زیادہ پرامید تھیں۔ ایک امریکی ذریعے نے بتایاکہ بی بی نے صدر کو جنگ کو آسان بتایا تھا، رژیم چینج کو زیادہ ممکن قرار دیا تھا، لیکن وی پی ان بیانات کے بارے میں حقیقت پسندانہ تھے۔
ایگزیوس کے مطابق، وینس نے نیتن یاہو سے گفتگو میں جنگ کی پیچیدگیوں پر تنقید کی، اسرائیلی ذرائع نے بھی اس کال کی تصدیق کی ہے۔
جنگ کے حوالے سے پچھلے دو ہفتے کی اپ ڈیٹس یہاں ملاحظہ کریں۔