چند منٹوں کی تبدیلی بھی دل کے دورے اور فالج جیسے جان لیوا خطرات کو ٹال سکتی ہے
اگر ان مثبت تبدیلیوں کو اگلے درجے تک لے جایا جائے، یعنی روزانہ 8 گھنٹے کی مکمل نیند، 40 منٹ کی ورزش اور متوازن غذا کو زندگی کا حصہ بنا لیا جائے
حالیہ طبی تحقیق میں انسانی صحت اور زندگی کی طوالت کے حوالے سے حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ 53 ہزار افراد کی نیند، غذا اور طرزِ زندگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ روزمرہ کے معمولات میں چند منٹوں کی تبدیلی بھی دل کے دورے اور فالج جیسے جان لیوا خطرات کو ٹال سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی روٹین میں صرف 11 منٹ اضافی نیند، 5 منٹ کی تیز واک اور اپنی خوراک میں محض 60 گرام سبزیوں کا اضافہ کر لے، تو اس کی صحت پر اس کے اثرات فوری مرتب ہوتے ہیں اور سنگین بیماریوں کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان مثبت تبدیلیوں کو اگلے درجے تک لے جایا جائے، یعنی روزانہ 8 گھنٹے کی مکمل نیند، 40 منٹ کی ورزش اور متوازن غذا کو زندگی کا حصہ بنا لیا جائے، تو دل اور دماغی امراض کا مجموعی خطرہ 57 فیصد تک گر سکتا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نیند محض آرام کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی جسم کی “مرمت” کا قدرتی عمل ہے، جو دل کو مضبوط بنانے اور ہارمونز کو متوازن رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے نیند میں تاخیر کرنا صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ ان معمولی سی تبدیلیوں کو اپنا کر انسان نہ صرف اپنی صحت بلکہ اپنی عمر میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔