بریکنگ حکومت نے پیٹرول پر ٹیکس بڑھا کر 161روپے کردیا

قیمت میں اضافہ بھی عالمی مارکیٹ سے زیادہ ہے، انگریزی اخبار کا دھماکہ خیز انکشاف

               
April 3, 2026 · قومی
Friday, 3 April 2026 – 09:14 #
ایران کو ہنگامی طبی آلات کی ممکنہ قلت کا خدشہ

ایران میں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ فیڈریشن کے نمائندہ وفد کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران میں ہنگامی طبی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اگر جنگ جاری رہی تو ٹراما کِٹس اور دیگر طبی سازوسامان کے ذخائر ختم ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے مُشکلات کے شکار ایرانی عوام کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ادارے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک 1900 سے زائد افراد ہلاک اور 21 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

Friday, 3 April 2026 – 08:58 #
اسرائیل کا اپر گلیلی میں راکٹ اور میزائل حملوں کا انتباہ

اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے اپر گلیلی کے علاقوں میں راکٹ اور میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر انتباہ جاری کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق ملکیا، کیریات شمونا، تل حی اور میٹولا کے اطراف راکٹ اور میزائل فائرنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ، جو شہریوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، نے جمعہ کے روز اس سے قبل مغربی گلیلی میں “دشمن طیارے کے حملے کے حوالے سے بھی الرٹ جاری کیا تھا۔

حکومت نے جمعرات کو پٹرول کی قیمت میں مزید 137 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، جس کے بعد نئی قیمت 458.4 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ اضافہ 43 فیصد بنتا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے مزید ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کے بعد کیا گیا۔

ایک انگریزی اخبار نے دھماکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ پٹرول کی نئی قیمت عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، کیونکہ حکومت نے پٹرولیم لیوی بڑھا کر ریکارڈ 160.61 روپے فی لیٹر کر دی۔ اس سے قبل یہ لیوی 106 روپے تھی، یعنی ایک ہی فیصلے میں 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا۔

حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی بڑھا کر 520.35 روپے فی لیٹر کر دی، جو پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ اس میں 185 روپے فی لیٹر یا 55 فیصد اضافہ کیا گیا۔ تاہم ڈیزل پر پٹرولیم لیوی ختم کر دی گئی جبکہ 2.5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی برقرار رکھی گئی۔

یہ قیمتیں اس وقت بڑھائی گئیں جب حکومت آئی ایم ایف کو مزید سبسڈی دینے پر آمادہ نہ کر سکی۔ آئی ایم ایف نے ایندھن پر سبسڈی کی حد 152 ارب روپے مقرر کر رکھی ہے۔

آئی ایم ایف کو قائل نہ کر پانے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کے باوجود کوئی رعایت حاصل نہ کر سکے۔

یہ ناکامی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ان کی وزارت کی بھی سمجھی جا رہی ہے، جو ٹیکس اہداف حاصل کرنے اور آئی ایم ایف کو قائل کرنے میں ناکام رہی۔

حکومت کا سب سے چونکا دینے والا اقدام پٹرول پر لیوی کو 161 روپے فی لیٹر تک بڑھانا تھا تاکہ ڈیزل کی قیمتوں میں کراس سبسڈی دی جا سکے، جس کا بوجھ بالآخر پٹرول صارفین پر ڈال دیا گیا۔

ایک ماہ کے اندر یہ ایندھن کی قیمتوں میں دوسرا بڑا اضافہ ہے۔ اس سے قبل بھی 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر ایک ماہ میں پٹرول 63 فیصد اور ڈیزل 75 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔

پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو بیان میں نئی قیمتوں کا اعلان کیا، جبکہ وزیراعظم خود عوام کے سامنے نہیں آئے۔

پٹرولیم وزیر کے مطابق عالمی مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے پٹرول کی قیمت میں 6.5 فیصد اضافہ ہو کر 136.4 ڈالر اور ڈیزل کی قیمت میں 20 فیصد اضافہ ہو کر 285 ڈالر تک پہنچ گئی۔

رپورٹس کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ایندھن کی قیمتیں بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ یہ معاہدہ کمزور قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ حکومت نے معیشت کو بہتر ظاہر کیا، حالانکہ ملک 1973 کے بعد بدترین ایندھن بحران کا شکار ہے۔

سیاسی اور انتظامی ناکامیوں کا اثر اب ہر گھر پر پڑے گا، ایسے وقت میں جب ملک میں غربت، آمدنی میں عدم مساوات اور بے روزگاری کئی سال کی بلند ترین سطح پر ہیں۔

خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی۔

مٹی کے تیل کی قیمت میں 34 روپے اضافہ کر کے 468 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 30 روپے اضافہ کر کے 395 روپے فی لیٹر کر دی گئی۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ ایران کی جانب سے اہم آئل و گیس فیلڈز بند کرنا اور آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔

گزشتہ سال جون میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو 390 ارب روپے ہنگامی حالات کے لیے مختص کرنے کا کہا تھا، لیکن حکومت نے اس رقم کو استعمال کرنے کے بجائے عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا۔

حکومت نے گزشتہ تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی، جس کے لیے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی اور ترقیاتی پروگرام کم کیے گئے۔

ماہرین کے مطابق جنگی اخراجات کا بوجھ عام شہریوں پر ڈالا جا رہا ہے، جبکہ سرکاری افسران اور حکومتی اہلکار مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ حالیہ دنوں میں اعلیٰ بیوروکریٹس کے لیے نئی گاڑیاں بھی خریدی گئی ہیں۔

اگرچہ وزیراعظم نے کفایت شعاری کا اعلان کیا، مگر وزراء کی ٹھاٹھ باٹھ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ بدستور سیکورٹی پروٹوکول کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔