سولر مہنگے کیوں ہورہےہیں؟اور کیا یہ سستے ہوں گے یانہیں؟

قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ پالیسی میں غیر یقینی صورتحال بنی

               

پاکستان میں سولر سسٹمز کی قیمتوںکا حالیہ اضافہ بظاہر غیر منطقی لگتا ہے کیونکہ پالیسی تبدیلیوں سے مانگ کم ہونے کی توقع تھی، مگر حقیقت اس کے برعکس سامنے آئی۔
نیشنل الیکٹر پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ سے بدل دیا جس کے تحت صارفین مہنگی بجلی خریدتے ہیں اور اضافی بجلی سستے داموں فروخت کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود سولر کی طلب کم نہیں ہوئی کیونکہ پاکستان میں لوگ اسے بجلی بیچنے کے بجائے ذاتی استعمال، لوڈشیڈنگ سے بچاؤ اور مہنگے ٹیرف سے نجات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ پالیسی میں غیر یقینی صورتحال بنی، جب نئے قوانین کے نفاذ کو عارضی طور پر روک دیا گیا تو صارفین نے جلدی میں سسٹمز لگوانا شروع کر دیے، جس سے مانگ بڑھ گئی اور قیمتیں اوپر چلی گئیں۔ اس کے ساتھ عالمی سطح پر چاندی اور تانبے جیسے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ، چین کی جانب سے ایکسپورٹ ریبیٹس میں کمی، اور پاکستان میں جی ایس ٹی جیسے ٹیکسز نے بھی سولر پینلز کی لاگت بڑھا دی۔

دوسری طرف بیٹریاں اس لیے مہنگی ہو رہی ہیں کیونکہ نئی پالیسی کے بعد بجلی بیچنے کے بجائے اسے اسٹور کرنا زیادہ فائدہ مند ہو گیا ہے۔ دن کی سستی بجلی کو محفوظ کر کے شام میں استعمال کرنے کا رجحان بڑھا ہے، جس کی نشاندہی Institute for Energy Economics and Financial Analysis نے بھی کی ہے، اور اسی وجہ سے بیٹریوں کی مانگ اور قیمت دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔

مختصراً، سولر اس لیے مہنگا ہو رہا ہے کیونکہ مقامی پالیسی، عالمی مارکیٹ، ٹیکسز اور صارفین کے رویے سب ایک ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں۔ فی الحال اس کے سستا ہونے کے امکانات کم ہیں، جب تک عالمی قیمتیں کم نہ ہوں، ٹیکسز میں کمی نہ آئے یا مقامی پیداوار شروع نہ ہو۔ موجودہ حالات میں غیر یقینی صورتحال خود قیمتوں میں اضافے کا ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔

ٹیگز: