دباؤ قبول نہیں، حملہ ہوا تو سخت جواب دیں گے:ایران کا ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹوک پیغام

امریکا کی سخت زبان دراصل مشرق وسطیٰ میں مسلسل ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔حکام

               
April 7, 2026 · بام دنیا

ایران نے امریکی دباؤ اور دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی فوجی قیادت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران خطے میں اپنی خودمختاری اور مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ حکام کے مطابق امریکا کی سخت زبان دراصل مشرق وسطیٰ میں مسلسل ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ دھمکیوں کے ذریعے نہ تو امریکا اپنی ساکھ بحال کر سکتا ہے اور نہ ہی خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم بنا سکتا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی جارحانہ بیان بازی کو کمزوری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

ایرانی قیادت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، اور اگر کسی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کا سخت اور فوری جواب دیا جائے گا، جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور ایک معاہدے پر آمادہ ہونے کے لیے ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔ امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے توانائی مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی مکمل ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔