روس ایک منصفانہ جنگ لڑ رہا ہے،پیوٹن۔ یوکرین جارح قرار

ماسکو میں فوجی پریڈ، عالمی رہنماؤں کی کم شرکت

May 9, 2026 · بام دنیا

سینکڑوں روسی فوجیوں نے ریڈ اسکوائر میں ہونے والی پریڈ میں حصہ لیا۔

 

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یومِ فتح کی سالانہ تقریب کے دوران یوکرین جنگ کا دفاع کرتے ہوئے نیٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ماسکو میں محدود پیمانے پر فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔

ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں منعقد ہونے والی یومِ فتح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس ایک “منصفانہ جنگ” لڑ رہا ہے اور یوکرین کو ایک “جارح قوت”قرار دیا جو پورے نیٹو اتحاد کی حمایت اور اسلحہ حاصل کر رہی ہے۔

تقریب میں سینکڑوں فوجی اہلکار شریک ہوئے۔ سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ماسکو کی فوجی پریڈ میں بکتر بند گاڑیاں اور بیلسٹک میزائل شامل نہیں کیے گئے، جسے مبصرین نے محدود نوعیت کی تقریب قرار دیا۔

اپنے خطاب میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دوسری جنگِ عظیم میں سوویت فوجیوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی قربانیوں کی روح آج یوکرین میں جاری “خصوصی فوجی کارروائی” میں روسی افواج کو حوصلہ فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی فوج ایسے اتحاد کا سامنا کر رہی ہے جسے نیٹو کی مکمل عسکری اور سیاسی حمایت حاصل ہے، تاہم روسی افواج مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں۔

ولادیمیر پیوٹن نے جنگی کوششوں میں سائنس دانوں، ڈاکٹروں، اساتذہ، موجدوں اور جنگی نامہ نگاروں کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ملک کا مستقبل عوام کی قربانیوں اور خدمات سے محفوظ بنایا جا رہا ہے۔

خطاب کے اختتام پر توپوں کی سلامی دی گئی اور فوجی بینڈ نے قومی دھنیں پیش کیں۔ تقریب میں بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو سمیت لاؤس، قازقستان، ازبکستان اور ملائیشیا کے اعلیٰ رہنما بھی شریک ہوئے۔

اس موقع پر سلوواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو کی بھی کریملن میں روسی صدر سے ملاقات ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال تقریب میں عالمی رہنماؤں کی شرکت نمایاں طور پر کم رہی۔ گزشتہ سال یومِ فتح کی اسی ویں سالگرہ کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

تقریب سے قبل روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی پر اتفاق بھی سامنے آیا، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔