خلیجی ممالک کو اسرائیل یا ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ، امریکی سفیر

اسرائیل نے حالیہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات (UAE) کو اپنے فضائی دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ کی بیٹریاں اور عملہ فراہم کیا،مائیک ہکابی

May 12, 2026 · بام دنیا
امریکی سفیر مائیک ہکابی۔فائل فوٹو

امریکی سفیر مائیک ہکابی۔فائل فوٹو

تل ابیب: اسرائیل کے لیے نامزد امریکی سفیر مائیک ہکابی نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اہم بیان دیتے ہوئے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ اب انہیں ایران اور اسرائیل کے درمیان واضح انتخاب کرنا ہوگا۔

تل ابیب یونیورسٹی میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مائیک ہکابی نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے حالیہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات (UAE) کو اپنے فضائی دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ کی بیٹریاں اور عملہ فراہم کیا تاکہ ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ہکابی نے کہا کہ خلیجی ممالک اب سمجھ چکے ہیں کہ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کے لیے زیادہ خطرہ کس سے ہے؟ ایران سے یا اسرائیل سے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ “اسرائیل نے ہماری (امریکہ کی) مدد کی جبکہ ایران نے ہم پر حملہ کیا۔ اسرائیل آپ کی زمین پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی آپ پر میزائل برسا رہا ہے۔

ایرانی خطرے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اشتعال انگیز جملہ استعمال کیا کہ ایران کی مذہبی قیادت کے لیے اسرائیل تو صرف ایک ’اسٹارٹر‘ (بھوک بڑھانے والا کھانا) ہے، ان کا اصل ہدف ہمیشہ سے امریکہ رہا ہے۔

مائیک ہکابی نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی مزید عرب ممالک ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بن کر اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کریں گے۔

دوسری جانب، غزہ، لبنان اور شام میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے کئی عرب ریاستوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے اور وہ اسرائیل کے توسیعی عزائم پر نالاں ہیں۔