چین اور امریکہ کے صدور ایران کو بھول گئے، تجارتی تعلقات میں بہتری پر اتفاق
بیجنگ نے تائیوان کے معاملے پر امریکہ کو وارننگ بھی جاری کردی
بیجنگ کے دورے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تصویر
چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باہمی تعلقات کو “تعمیری، اسٹریٹجک اور مستحکم” قرار دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ نیا فریم ورک اگلے تین برسوں اور اس کے بعد بھی دونوں ملکوں کے تعلقات کی رہنمائی فراہم کرے گا۔ بیجنگ نے امریکی کاروباری حضرات کیلئے چین کے دروازے کھلے رکھنے کا بیان دیا ہے۔
تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد ایران جنگ کے اہم معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ البتہ چین نے تائیوان کے معاملے پر امریکہ کو وارننگ ضرور دی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک غیرمعمولی سرکاری طور پر بیجنگ میں ہیں، جہاں ان کی چینی صدر سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارت، معیشت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم کیا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ “چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کا اصل جوہر باہمی فائدہ اور جیت-جیت کی تعاون ہے”۔ انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ مل کر “مشکل سے حاصل ہونے والے مثبت مومنٹم” کو برقرار رکھیں۔
صدر شی نے واضح کیا کہ “چین کی امریکی کاروباری اداروں کے لیے دروازے مزید کھلیں گے”۔چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں صدور نے فوجی سطح پر بہتر مواصلات اور تجارت، صحت، زراعت، سیاحت، ثقافت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
تائیوان پر سخت وارننگ
صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے معاملے کو چین-امریکہ تعلقات کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: “اگر اسے اچھی طرح نمٹایا گیا تو باہمی تعلقات مجموعی طور پر مستحکم رہ سکتے ہیں، لیکن اگر برا طریقے سے نمٹایا گیا تو دونوں ممالک میں ٹکراؤ ہو سکتا ہے اور پورا چین-امریکہ تعلق انتہائی خطرناک صورتحال میں جا سکتا ہے۔”
دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ، یوکرین بحران اور کوریائی جزیرہ نما کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ تاہم، ایران کے حوالے سے کوئی خاص ذکر سامنے نہیں آیا۔چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی راہ پر ڈالنے کی جانب اہم قدم ہے، جبکہ تائیوان پر شی کی وارننگ بیجنگ کی روایتی پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقتصادی تعاون پر زور اور تائیوان جیسے حساس مسائل پر واضح موقف دونوں ممالک کے درمیان آئندہ برسوں کے تعلقات کی شکل متعین کرے گا۔
کاروباری تعلقات ترجیح
شی جن پنگ نے امریکی کاروباری قیادت کے ایک بڑے وفد سے بھی ملاقات کی جس میں ایپل، انویدیا، مائیکرون، کوالکام، بلیک راک، بوئنگ، سٹیز گروپ اور گولڈمین سیکس کے سربراہان شامل تھے۔ ٹرمپ نے وفد کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ تمام امریکی کاروباری برادری کے ممتاز نمائندے ہیں جو چین کا احترام کرتے ہیں۔شی جن پنگ نے کہا کہ امریکی کمپنیاں چین کی اصلاحات اور کھلے پن میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں اور انہیں چین میں مزید وسیع مواقع میسر آئیں گے۔