کراچی: ہل پارک زمین تنازع پر حکومت سندھ و شہری اداروں کو نوٹس جاری
عدالت نے حکومت سندھ اور دیگر فریقین سے 11 جون تک جواب طلب کر لیا
فائل فوٹو
کراچی : سندھ ہائیکورٹ میں ہل پارک میں پہاڑ کی کٹائی اور مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست پر عدالت نے حکومت سندھ، کے ایم سی، پی ای سی ایچ ایس اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 جون تک جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل اقبال صدیقی مذکورہ پلاٹ کے قانونی مالک ہیں اور کے ایم سی نے 2 جون کو بغیر قانونی نوٹس اور اختیار کے پلاٹ کی باؤنڈری وال مسمار کی۔
درخواست کے مطابق پی ای سی ایچ ایس کے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ متنازع پلاٹ ہل پارک کی حدود میں شامل نہیں بلکہ پی ای سی ایچ ایس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی موجود ہے۔
مزید کہا گیا کہ کے ایم سی نے 21 اپریل کو پلاٹ پر باؤنڈری وال کی تعمیر کے لیے این او سی جاری کیا تھا، اس لیے مسماری غیر قانونی اور بلا اختیار اقدام ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ذمہ داران کے خلاف انکوائری اور محکمانہ کارروائی کا حکم دیا جائے اور مزید مداخلت سے روکا جائے۔
درخواست میں سندھ حکومت، کے ایم سی ڈائریکٹر لینڈ، میونسپل کمشنر کے ایم سی، ڈپٹی ڈائریکٹر ہل پارک اور ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔