کینیڈا اور یورپ میں افغان طالبان کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہرے

تعلیم، روزگار اور بنیادی آزادیوں کے حق میں نعرے لگائے اور عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

June 15, 2026 · بام دنیا

 بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے ہرات میں پرامن مظاہرین پر مبینہ تشدد اور جبری گرفتاریوں کے بعد کینیڈا اور مختلف یورپی ممالک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

مظاہرین نے طالبان رجیم کی پالیسیوں کو “جابرانہ” قرار دیتے ہوئے تعلیم، روزگار اور بنیادی آزادیوں کے حق میں نعرے لگائے اور عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

جرمنی کے شہر اسٹٹگارٹ میں ہونے والے مظاہرے کے دوران شرکاء نے جرمن حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تمام سفارتی روابط فوری طور پر ختم کیے جائیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ موجودہ روابط طالبان کو خواتین پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا حوصلہ دے رہے ہیں۔

کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں بھی بڑی تعداد میں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور طالبان کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔ مظاہرین نے کینیڈین حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں خواتین کے خلاف پالیسیوں اور مبینہ “جینڈر اپارتھائیڈ” کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔

اس کے علاوہ اسپین اور اٹلی میں بھی احتجاجی مظاہرے رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں شرکاء نے افغان خواتین کے حقوق اور انسانی آزادیوں کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے پر زور دیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خاموش نہیں رہنا چاہیے اور فوری عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔