کشمیر تکمیلِ پاکستان کا نامکمل حصہ ، 5 جنگیں لڑی جا چکیں

"کشمیر بنے گا پاکستان" اور "ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے" جیسے نعرے پاکستانیوں اور کشمیریوں کے موقف کے غماز ہیں ، سیکیورٹی ذرائع

June 16, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

اسلام آباد: سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کشمیر تکمیلِ پاکستان کا نامکمل حصہ ہے۔ 1948 میں لڑی جانے والی جنگ پاکستانی فوج، کشمیریوں اور قبائل نے مل کر لڑی۔ کشمیر پر اب تک 5 جنگیں ہوچکی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق “کشمیر بنے گا پاکستان” اور “ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے” جیسے نعرے پاکستانیوں اور کشمیریوں کے موقف کے غماز ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد ترقی اور سبسڈی وہاں کے غیور مسلمانوں کے جذبات کو نہیں خرید سکتی۔ آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے اور قانونی رخنے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو ختم نہیں کرسکتے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی ہے، جہاں کے لوگ اضطراب کا شکار ہیں لیکن وہ یکسو ہیں کہ کشمیر کا حل بھارت کے پاس نہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں اپنی ناکامی کو چھپانے کی غرض سے بھارت آزاد کشمیر میں آگ لگانے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ نام نہاد حقوق کی تحریک کے پیچھے مذموم مقاصد اب عیاں ہوچکے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی قیادت کی اولین ترجیح ہمیشہ بات چیت اور مذاکرات ہوتے ہیں، اور گزشتہ دو سال میں بھی مذاکرات کے ذریعے سہولیات فراہم کی گئیں۔

پاکستان کی حکومت ایک جمہوری نظام ہے جو ہر مسئلے کو پہلے مذاکرات اور بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی ابتدا میں عوامی مسائل کے ساتھ سامنے آئی، تاہم ریاست نے اسی وقت ان میں چھپے عناصر کو بھانپ لیا تھا۔

مظاہرین میں چھپے کئی کردار اور ان کے اصل مقاصد اب واضح ہوچکے ہیں، جن سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

حکومت آزاد جموں و کشمیر نے جمہوری اور مصلحت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کو تمام مراحل میں ساتھ ملانے کی کوشش کی۔

تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے اس کے برعکس تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا راستہ اپنایا اور عوام کو اشتعال انگیز اقدامات کی طرف راغب کیا۔

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے فیصلے کو بھی نظر انداز کیا اور مسلسل ریاست مخالف جذبات کو ابھارتی رہی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بارہ سیٹیں آئین اور کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت سے منسلک ہیں اور کوئی بھی گروہ زور زبردستی سے فیصلہ مسلط نہیں کرسکتا۔

ریاست کو اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں کہ تشدد اور انتشار پھیلانے والوں سے کیسے نمٹا جائے گا، اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر کوئی بیرونی ایجنڈے کے تحت ریاستی رٹ کو چیلنج کرے گا تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔