الیکٹرانک یا ڈیجیٹل دستخط کیا ہوتے ہیں؟

یہ دستخط روایتی دستخطوں کے برابر قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور کئی ممالک میں انہیں مکمل طور پر تسلیم کیا جاتا ہے

June 18, 2026 · بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے جانے کے بعد یہ سوال سامنے آیا ہے کہ آخر ڈیجیٹل یا الیکٹرانک دستخط ہوتے کیا ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق الیکٹرانک دستخط سے مراد کسی دستاویز یا معاہدے کو کمپیوٹر، موبائل یا انٹرنیٹ کے ذریعے قبول کرنے اور اس پر رضامندی ظاہر کرنے کا جدید طریقہ ہے، جس کے لیے فریقین کا ایک ہی جگہ موجود ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

یہ دستخط روایتی دستخطوں کے برابر قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور کئی ممالک میں انہیں مکمل طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ امریکا اور یورپی یونین سمیت متعدد خطوں میں قوانین موجود ہیں جن کے تحت الیکٹرانک دستخط کو کاغذی دستخط کے برابر مانا جاتا ہے۔

الیکٹرانک دستخط کی سادہ شکل میں کوئی شخص آن لائن فارم پر اپنا نام لکھ کر، دستخط کی تصویر لگا کر یا “میں متفق ہوں” کے بٹن پر کلک کر کے اپنی رضامندی ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ حساس اور بڑے معاہدوں کے لیے ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس، انکرپشن اور سیکیورٹی کوڈز استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ دستاویز کی حفاظت اور شناخت کی تصدیق یقینی بنائی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ڈیجیٹل نظام میں بائیومیٹرک تصدیق جیسے فنگر پرنٹ، چہرے کی شناخت اور دیگر جدید طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی جعلسازی کا امکان کم سے کم ہو۔

تاہم عام طور پر بڑے بین الاقوامی معاہدوں میں میڈیا کے سامنے علامتی دستخط بھی کیے جاتے ہیں، جبکہ اصل منظوری اور توثیق ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مکمل کی جاتی ہے، جس کے بعد دستاویز کو قانونی طور پر نافذ سمجھا جاتا ہے۔