ایران کے منجمد اثاثے امریکی غلہ خریدنے کے لیے استعمال کرنے کی تجویز، ماضی میں پاکستان کے ساتھ کیے گئے سلوک کا حوالہ

جے ڈی وینس کی اس تجویز کو امریکہ کی روایتی 'فوڈ ڈپلومیسی' کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔

June 22, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری حالیہ امن مذاکرات کے تناظر میں ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت ایران کے اربوں ڈالر کے غیرمنجمد اثاثوں کو امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے مشروط کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت تہران کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ بحال ہونے والی رقم کا بڑا حصہ امریکہ سے غلہ، گندم اور سویا بین خریدنے پر خرچ کرے۔

سیاسی و سفارتی حلقوں میں جے ڈی وینس کی اس تجویز کو امریکہ کی روایتی ‘فوڈ ڈپلومیسی’ کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے اس اقدام کا موازنہ ماضی میں پاکستان کے ساتھ روا رکھے گئے امریکی رویے سے کیا ہے، جب واشنگٹن نے اسلام آباد کو ایف-16 (F-16) طیاروں کی رکی ہوئی رقم کے بدلے گندم خریدنے پر مجبور کر دیا تھا۔

پاکستان کے ساتھ ماضی کا تجربہ: ایف-16 اور گندم کا معاملہ

جے ڈی وینس کی اس حالیہ تجویز نے 1990ء کی دہائی میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والے ایف-16 طیاروں کے تنازع کی یاد تازہ کر دی ہے۔

1989ء میں پاکستان نے 28 ایف-16 طیاروں کے لیے امریکہ کو 658 ملین ڈالر ادا کیے تھے، تاہم 1990ء میں پریسلر ترمیم کے تحت امریکہ نے طیاروں کی ترسیل روک دی اور رقم بھی ضبط کر لی۔

برسوں کے تنازع کے بعد، 1998ء میں دونوں ممالک کے درمیان ایک تصفیہ ہوا جس کے تحت امریکہ نے پاکستان کو نقد رقم کی جزوی واپسی کی، جبکہ بقیہ 140 ملین ڈالر کے عوض پاکستان کو مجبوراً امریکہ سے گندم اور سویا بین آئل درآمد کرنا پڑا۔

تجویز کے اہم نکات اور قطر کا کردار

امریکی نائب صدر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ مشیر جیرڈ کوشنر نے اس سلسلے میں قطر کے ساتھ مل کر ایک فارمولا تیار کیا ہے۔ اس فارمولے کے تحت ایران کے غیرمنجمد ہونے والے اثاثوں کی نگرانی امریکہ اور قطر مشترکہ طور پر کریں گے۔

یہ رقم تہران کو براہ راست نقد دینے کے بجائے امریکی کسانوں سے غلہ (گندم، مکئی اور سویا بین) خریدنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے یہ رقم مبینہ طور پر دہشت گردی کے بجائے ایرانی عوام کی فلاح اور خوراک کی ضروریات پر صرف ہوگی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک بار پھر ایران کے ساتھ اسی تاریخی فارمولے کو دہرانے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں وہ جیو پولیٹیکل رعایتوں کے بدلے اپنے ملکی کسانوں اور زرعی معیشت کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے۔ تہران اور عالمی ثالثوں کی جانب سے اس تجویز پر باقاعدہ ردِعمل آنا ابھی باقی ہے۔