امریکا اور اسرائیل کے درمیان نئے سفارت خانے کی تعمیر کا معاہدہ طے
مستقل امریکی سفارت خانے کے لیے زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق دستاویزات پیش کی گئیں۔
امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارت خانے کی تعمیر کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کر دیے، جسے امریکا اور اسرائیل نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے کی دستخطی تقریب میں اسرائیل کے وزیر خارجہ اور اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے شرکت کی، جہاں مستقل امریکی سفارت خانے کے لیے زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق دستاویزات پیش کی گئیں۔
امریکی سفیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے اور یہاں ایک جدید، مستقل سفارتی کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا، جو ملک میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کا مرکزی مرکز ہوگا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی علامت قرار دیا۔
دوسری جانب فلسطینی مؤقف کی حمایت کرنے والی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت بین الاقوامی سطح پر متنازع ہے اور ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سب سے حساس تنازعات میں شامل ہے۔ فلسطینی قیادت مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتی ہے، جبکہ امریکا نے 2017 میں اپنے سفارتی مشن کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔