گروپ کیپٹن قتل کیس:ملزم 9 گھنٹوں میں گرفتار کیا،جدید ٹیکنالوجی سے تفتیش مکمل ہوئی، آئی جی اسلام آباد
ملزم سعد عباسی اور نمرہ نامی خاتون ایک کیش اینڈ کیری اسٹور میں ملازمت کرتے تھے اور ایک دوسرے کو جانتے تھے۔
اسلام آباد پولیس نے پاکستان فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم سعد عباسی کو واقعے کے چند گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا۔ پولیس حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، سیف سٹی کیمروں اور روایتی تفتیشی طریقوں کی مدد سے ملزم تک رسائی ممکن ہوئی۔
آئی جی اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ واقعہ صبح تقریباً 11 بج کر 21 منٹ پر پیش آیا، جس کے بعد فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ ان کے مطابق ملزم سعد عباسی اور نمرہ نامی خاتون ایک کیش اینڈ کیری اسٹور میں ملازمت کرتے تھے اور ایک دوسرے کو جانتے تھے۔
پولیس کے مطابق وقوعہ کے روز ملزم خاتون کو اپنی مرضی کے مطابق کسی مقام پر لے جانا چاہتا تھا، تاہم خاتون کے انکار پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی اور کشیدگی پیدا ہو گئی۔ اسی دوران وہاں سے گزرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق نے صورتحال دیکھ کر مداخلت کی اور خاتون کی مدد کی کوشش کی۔
آئی جی کے مطابق جب خاتون گروپ کیپٹن کی گاڑی کی جانب بڑھی تو ملزم نے موٹر سائیکل موڑ کر پستول سے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں گروپ کیپٹن عاصم طارق جان کی بازی ہار گئے۔
سید علی ناصر رضوی نے بتایا کہ کیس کی تفتیش کے لیے 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ دورانِ تفتیش 275 سے زائد سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج، مختلف ڈیجیٹل شواہد اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کیا گیا، جس سے ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ ملا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے موبائل فون کا ڈیٹا بند کر دیا تھا اور شہر سے نکلنے کی کوشش میں بس کا ٹکٹ بھی حاصل کر رکھا تھا، تاہم پولیس ٹیموں کے باہمی رابطے اور مسلسل نگرانی کے باعث اسے واقعے کے تقریباً نو گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا گیا۔
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی نے تحقیقات کا عمل تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ پولیس کی مربوط حکمت عملی کے نتیجے میں حساس نوعیت کے اس مقدمے میں فوری پیش رفت ممکن ہوئی۔
انہوں نے ایک اور اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس میں جلد تقریباً 9 ہزار نئی بھرتیاں کی جائیں گی، جن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئیز) بھی شامل ہوں گے، جبکہ فورس کی استعداد بڑھانے کے لیے 90 نئی گاڑیاں بھی فراہم کی جائیں گی۔