ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مشہد میں سپرد خاک، چھ روزہ سوگ کا اختتام
سپریم لیڈر کو امام رضاؑ کے مقدس حرم کے احاطے میں ہی ابدی نیند سلایا گیا۔
فوٹو سوشل میڈیا
تہران:ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کی جائے پیدائش، مقدس شہر مشہد میں لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کی تدفین کے ساتھ ہی ایران اور پڑوسی ملک عراق کے پانچ مختلف شہروں میں جاری چھ روزہ عوامی سوگ کی باقاعدہ تقریبات بھی اختتام پذیر ہو گئی ہیں۔ ان چھ دنوں کے دوران منعقد ہونے والی جنازہ اور تعزیتی تقریبات جہاں گہری مذہبی عقیدت کا مظہر رہیں، وہیں سیاسی علامات اور پیغامات سے بھی بھرپور نظر آئیں۔
سوگ کے آخری روز ایک بار پھر عوام کی بہت بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ الوداعی جلوس مشہد کی شاہراہوں سے گزرا، جہاں لاکھوں سوگواروں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سنہری گنبد کے باعث شہرت رکھنے والے روضۂ امام علی رضاؑ کی جانب بڑھتا رہا۔ سپریم لیڈر کو امام رضاؑ کے مقدس حرم کے احاطے میں ہی ابدی نیند سلایا گیا۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے اور فضا یا حسینؑ اور مذہبی نعروں سے گونجتی رہی۔
تعزیتی تقریبات اور آخری جلوس میں شریک آیت اللہ خامنہ ای کے حامیوں اور مذہبی پیروکاروں نے ہاتھوں میں ایرانی پرچم، مرحوم قائد کی تصاویر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ ان پلے کارڈز پر جہاں داخلی اور علاقائی یکجہتی کے پیغامات درج تھے، وہیں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں سخت ردعمل اور انتقام کے مطالبات بھی نمایاں طور پر نظر آئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ تعزیتی اجتماعات خطے میں ایران کے حامی دھڑوں اور “محورِ مزاحمت” (Axis of Resistance) کے لیے اپنی طاقت کے اظہار کا ذریعہ بھی بنے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر ایران سمیت پڑوسی ملک عراق میں بھی گہرے اثرات دیکھے گئے۔ تہران، قم، مشہد کے علاوہ عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں بھی جنازے کی غائبانہ نمازیں اور تعزیتی جلوس نکالے گئے۔ عراق کی اہم سیاسی و مذہبی شخصیات نے ان تقریبات میں شرکت کی، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے تزویراتی (Strategic) اور مذہبی روابط کی عکاس ہیں۔
جہاں ایک طرف لاکھوں حامی سڑکوں پر غم و غصے اور عقیدت کا اظہار کر رہے تھے، وہیں دوسری جانب ایران کا وہ طبقہ جو آیت اللہ خامنہ ای کے طویل اقتدار، سخت گیر پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی کا ناقد رہا ہے، ان تمام سرکاری اور عوامی تقریبات سے مکمل طور پر لا تعلق اور دور رہا۔