ایرانی حملوں کے دوران قطر کی ثالثی کوششیں تیز۔سفارت کاری جاری
خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قطر متحرک، سفارتی رابطوں میں اضافہ
خلیجی خطے میں ایران کے حالیہ حملوں کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آ گئی ہے، جہاں قطر دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔
دوحہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قطر ایران اور امریکہ کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے اور تمام فریقوں پر زور دے رہا ہے کہ گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کیا جائے۔
اس مقصد کے لیے قطری حکام نے ایران کے متعدد دورے کیے ہیں، جبکہ خطے کے دیگر اعلیٰ عہدیدار اور رہنما بھی ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسلسل رابطوں، ٹیلی فونک گفتگو اور سفارتی شٹل ڈپلومیسی میں مصروف ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق فی الحال خطے کے کسی بھی ملک کی جانب سے یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ جاری سفارتی کوششیں متاثر ہوئی ہیں یا ناکام ہو چکی ہیں۔
تاہم خطے کے تمام متعلقہ ممالک اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ تنازع میں شامل تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں مزید اضافہ نہ کریں اور اس بحران کو پورے خطے میں پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی حل کو ترجیح دیں۔