بھارت میں مودی حکومت کیخلاف نوجوانوں کے مظاہرے پھیل گئے

کاکروچ پارٹی کا فی الحال دہلی تک مارچ نہ کرنے کا اعلان، راہول گاندھی ڈنڈا ڈولی کرکے گرفتار

July 21, 2026 · بام دنیا

بھارت میں نوجوانوں کے مظاہرے منگل کو پھیل گئے۔ راہول گاندھی کو گرفتار کرلیا گیا

بھارت میں میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ (نیٹ) کے مبینہ پرچہ لیک ہونے کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج دہلی کے بعد دیگر شہروں تک پھیل گئے، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے سامنے دھرنا دینے والے کانگریس رہنما راہول گاندھی کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

رپورٹس کے مطابق امتحانی پیپرز لیک ہونے کے خلاف شروع ہونے والی “کاکروچ تحریک” اب ملک بھر میں ایک بڑی احتجاجی مہم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ پیر کو جھڑپوں کے دوران 180 مظاہرین زخمی اور 70 افراد گرفتار ہوئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں اس کے 118 اہلکار بھی زخمی ہوئے، تاہم بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ مظاہرین پرامن ہیں۔

دہلی میں طلبہ اور نوجوانوں پر پولیس کارروائی کے خلاف کانگریس رہنما راہول گاندھی، پریانکا گاندھی اور اکھلیش یادو سمیت متعدد اپوزیشن رہنما وزیراعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر دھرنا دینے پہنچے، جہاں منگل کے روز دہلی پولیس نے راہول گاندھی کو حراست میں لے لیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس کارروائی کے بعد دباؤ بڑھنے پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے نوجوانوں کو مزید تشدد سے بچانے کے لیے فی الحال دہلی مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔

ادھر لکھنؤ، ناگپور اور مغربی بنگال کے مختلف شہروں میں بھی طلبہ سڑکوں پر نکل آئے، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی اطلاعات ہیں۔

مارچ منسوخ ہونے کے باوجود سینکڑوں مظاہرین نے دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر دھرنا دے رکھا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر استعفیٰ دیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ (نیٹ) کا پرچہ لیک ہونے کے بعد 22 لاکھ طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا تھا۔