مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے، ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا:اقوام متحدہ میں امریکی مندوب

زیادہ سے زیادہ دباؤ جاری رہے گا، جنگ جنوری 2029 تک جاری رہ سکتی ہے۔

September 21, 2026 · بام دنیا
اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز

 

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس عزم پر قائم ہیں کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اس مقصد کے حصول کے لیے تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی بدستور جاری رکھی جائے گی۔ نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب اور جاری کردہ بیانات کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری کشمکش دراصل 47 سال سے جاری تنازع کا تسلسل ہے۔

مائیک والٹز کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی آڑ میں دنیا کو یرغمال بنانے اور آبنائے ہرمز کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکہ کی جانب سے سخت گیر مؤقف کے باوجود یہ عندیہ بھی دیا گیا ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت کے راستے مکمل طور پر مسدود نہیں ہوئے۔ مائیک والٹز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، بشرطیکہ تہران حکومت سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ کرے۔ یاد رہے کہ 2015 میں طے پانے والے تاریخی جوہری معاہدے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران 2018 میں امریکا کو الگ کر لیا تھا، اور حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطہ کاری تعطل کا شکار ہے۔

جنگ کے دورانیے اور ٹائم لائن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر نے اعتراف کیا کہ اس تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی جا سکتی، اور یہ صورتحال جنوری 2029 تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔ دوسری طرف، ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ این بی سی نیوز کے ایک عوامی جائزے میں 62 فی صد ووٹرز نے اس جنگ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

علاوہ ازیں، علاقائی سطح پر کشمکش کے خاتمے اور سفارتی ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ تقریبا 2 ہفتوں سے قطر اور پاکستان سمیت دیگر ثالثی فریقین واشنگٹن اور تہران کے مابین رابطے بحال کرانے کے لیے سرگرم عمل ہیں، اور قطری ٹیم کو امریکی حکام کی جانب سے مثبت اشارے بھی ملے ہیں کہ واشنگٹن کسی قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔