روس کے پارلیمانی انتخابات، صدر پیوٹن کی جماعت یونائیٹڈ رشیا کو واضح برتری حاصل
ابتدائی نتائج جاری، 355 نشستیں ملنے کا امکان، ووٹر ٹرن آؤٹ 57 فیصد رہا۔
روس کے پارلیمانی انتخابات کے بعد ماسکو میں مرکزی انتخابی کمیشن کا دفتر اور انتخابی منظر نامہ।
ماسکو: روس کے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن کی حمایت یافتہ جماعت یونائیٹڈ رشیا نے واضح برتری حاصل کرلی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 95 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی کے بعد یونائیٹڈ رشیا کو تقریباً 57.83 فیصد ووٹ ملے ہیں اور جماعت کو 450 رکنی اسٹیٹ ڈوما میں تقریباً 355 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
یہ انتخابات 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے آغاز کے بعد ملک کے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ مرکزی الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف دی رشین فیڈریشن 13.84 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی آف رشیا 8.9 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ نیو پیپل پارٹی نے 7.94 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں، جبکہ اے جسٹ رشیا پارٹی کو 4.95 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
روس کے مرکزی انتخابی کمیشن کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 57 فیصد رہا۔ انتخابات میں 450 رکنی ایوانِ زیریں کے نصف ارکان پارٹی فہرستوں اور نصف سنگل سیٹ حلقوں سے منتخب کیے جاتے ہیں۔ انتخابی عمل کے دوران یوکرین کی جانب سے روس کے مختلف علاقوں پر ڈرون حملے بھی ہوئے۔ روسی حکام کے مطابق ماسکو کے علاقے میں حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور ایک آئل ریفائنری کو بھی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب یوکرین نے روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقوں میں ہونے والی ووٹنگ کو غیر قانونی قرار دیا ہے، جبکہ روسی حکام نے انتخابات کو ملک میں آئینی اور سیاسی عمل کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام ووٹوں کی گنتی اور حتمی قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد حتمی نتائج کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔