وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اہم دورے پر تہران پہنچ گئے
ایرانی حکام سے ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تہران ایئرپورٹ پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کر رہے ہیں
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سرکاری دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔ تہران ایئرپورٹ پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا پُرتقلف استقبال کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اپنے اس دورے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی ایرانی صدر اور اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ محسن نقوی کا یہ دورہ مکمل طور پر دوطرفہ امور اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اس دورے کے پس منظر میں کوئی تیسرا سفارتی پیغام لانے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ محسن نقوی اس سے قبل بھی دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایران کے متعدد دورے کر چکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان واپسی اور ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران خبردار کیا کہ وفاقی دارالحکومت پر کسی بھی قسم کا دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کو بند کرنے کی کوشش کرنے والوں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا اور عدالت کے احکامات پر من و عن عمل درآمد کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار یہ نہیں ہوگا کہ ملک 10 یا 20 دن کے لیے مفلوج ہو جائے بلکہ اس حوالے سے مستقل اور موثر لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں اور ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ عالمی منڈی کے موجودہ حالات کے پیش نظر اگر بحران برقرار رہا تو دنیا بھر میں پیٹرول کی دستیابی انتہائی مشکل ہو جائے گی اور موجودہ حالات میں پیٹرول 1 ہزار روپے لیٹر بھی میسر نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف تیل کی ترسیل کے بحران پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں جبکہ متعلقہ وزارت کی ٹیم تیل بردار جہازوں کی بحفاظت فراہمی کے لیے شبانہ روز کوششیں کر رہی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے وزیر داخلہ نے پُرامید رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر پیشرفت نہایت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور تمام طبقات اس عمل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔