امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ایران سے جنگ کے خاتمے کیلئے ڈیل کا عندیہ
بنیادی شرط ایران کا جوہری ہتھیار نہ بنانا ہے، امریکی مؤقف میں سفارتی کوششیں جاری۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیراعظم شہباز شریف کے بیانات کی فائل تصویر
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدہ کرنے پر اب بھی آمادہ ہیں، تاہم واشنگٹن کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
روبیو نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اس وقت بھی ایران کے ساتھ ایسے معاہدے کیلئے تیار ہیں جس کے نتیجے میں ایران ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بن سکے۔ مارکو روبیو کے مطابق امریکا کیلئے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ
روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے بعد بھی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، تاہم سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس سے ایک روز قبل بھی روبیو نے کہا تھا کہ امریکا ایرانی قیادت سے ملاقات کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ اس سے کسی مثبت نتیجے کی امید ہو۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے بھی جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز پر امریکی جواب کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے، تاہم تہران اور واشنگٹن کے مؤقف میں اب بھی کئی اختلافات موجود ہیں۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی مکمل توجہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی پر مرکوز ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مجھ سمیت صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر نے دستخط کیے تھے تاہم بدقسمتی سے اس کے بعد ہونے والے واقعات غیر متوقع تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مکمل توجہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی پر مرکوز ہے، ہم نے امید نہیں چھوڑی، کشیدگی میں کمی اور پیش رفت کے لیے ہم مکمل پُرعزم ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مخلص اور دیانت دار ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، یہ مسلسل عمل ہے، تمام دوست ممالک امن کے حصول کی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
روبیو نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے وقت اور سخت سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی، جبکہ امریکی صدر نے فوجی آپشن بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ یوں ایک طرف واشنگٹن مذاکرات اور معاہدے کا امکان کھلا رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف جوہری پروگرام کے معاملے پر اپنی بنیادی شرط بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔