اقوام متحدہ میں ایرانی صدر کا خطاب، تلخ حقائق پر امریکی وفد واک آؤٹ کر گیا

سخت مؤقف، مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ایرانی صدر کا واضح اعلان

September 24, 2026 · اہم خبریں
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی جارحیت کے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے پیش کر دیے، جس پر ہال میں موجود امریکی وفد احتجاجاً اٹھ کر چلا گیا۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایرانی صدر نے اپنی پرجوش تقریر کے دوران میناب کے پرائمری گرلز اسکول پر امریکی حملے میں شہید ہونے والی معصوم طالبات کی تصاویر عالمی برادری کو دکھائیں۔

دستاویزات اور خبر رساں رپورٹس کے مطابق، مسعود پزشکیان نے مؤقف اپنایا کہ ان کے رہنما کو جنگ کے پہلے روز بغیر کسی قانونی جواز یا قصور کے قتل کیا گیا، جبکہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں سیکڑوں شہری شہید اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔ ایرانی صدر نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ایران اپنے دفاع کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اپنے ملک کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے ہرگز نہیں گزرنے دیا جائے گا۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران کو ایٹمی بم کی نہیں بلکہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جو ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران سفارت کاری اور مذاکرات کی راہ پر چلنے کے لیے پوری طرح تیار ہے، لیکن دباؤ اور طاقت کی زبان کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ایران کبھی اپنے جوہری حق سے دستبردار ہوگا۔