پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے اعلان پر لاہور میں کارروائی، 37 کارکن گرفتار
بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 29 افراد نظر بند، حکومت سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار
پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے اعلان کے بعد لاہور میں پولیس کی جانب سے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔
اسلام آباد میں احتجاجی مارچ اور دھرنے کی کال کے تناظر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاہور میں سخت کارروائیاں کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی بانی کی بہنوں سمیت 37 کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران 29 افراد کو امن عامہ برقرار رکھنے کے قانون یعنی تھری ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے نظر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر 4 رہنماؤں کو 9 مئی کے پرتشدد مقدمات میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور دھرنے کے پیش نظر متحرک کارکنوں کی نئی فہرستیں مرتب کر کے کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سیاسی محاذ پر کشیدگی کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے حکومتی صفوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بات چیت کے لیے پوری طرح تیار ہے، لیکن موجودہ حکمران طبقے میں مسائل کو حل کرنے کی سنجیدہ سوچ کا فقدان پایا جاتا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ پارٹی کو معلوم ہے کہ کس سے بات کی جانی چاہیے، تاہم بدقسمتی سے اس وقت کوئی باضابطہ رابطہ قائم نہیں ہو رہا۔
علاوہ ازیں، سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف راجا ناصر عباس نے زور دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے ذریعے ملک کو موجودہ سیاسی و معاشی گرداب سے نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی تک صلح یا پیغام رسانی کا اگر کوئی ذریعہ بنایا بھی گیا تو اسے جان بوجھ کر روکا گیا اور ان تک بات نہیں پہنچنے دی گئی۔ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت محاذ آرائی کے بجائے سنجیدہ سیاسی ڈائیلاگ کی اشد ضرورت ہے تاکہ بڑھتے ہوئے تناؤ کو ختم کیا جا سکے۔