مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد پر ہنگامہ آرائی

عمر عبداللہ نے قرارداد پیش کی، بی جے پی ارکان نے نقول پھاڑ دیں، احتجاج پر ایک رکن کو باہر نکال دیا گیا۔

September 26, 2026 · اہم خبریں
مقبوضہ جموں و کشمیر اسمبلی میں قرارداد کے موقع پر ہنگامہ آرائی کا منظر

مقبوضہ جموں و کشمیر اسمبلی میں قرارداد کے موقع پر ہنگامہ آرائی کا منظر

مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مقبوضہ علاقے کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے باضابطہ طور پر ایک قرارداد پیش کی گئی، جس پر ایوان کے اندر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ اہم قرارداد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی، جسے دیکھ کر بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے ارکان سیخ پا ہو گئے اور انہوں نے ایوان میں شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد پیش کیے جانے کے دوران بی جے پی ارکان نے کاغذی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے قرارداد کی نقول پھاڑ دیں۔ ہنگامہ آرائی کا یہ سلسلہ یہیں نہیں روکا بلکہ بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی وکرم رندھاوا غصے میں کرسی اٹھا کر ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق اس دوران مذکورہ رکن نے اسپیکر کی نشست کی جانب بڑھنے کی بھی کوشش کی، جس پر سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔

دوسری جانب، مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد ترقی کے بھارتی دعووں کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ضلع ڈوڈہ سے منتخب ہونے والے ممبر قانون ساز اسمبلی مہراج ملک نے قابض حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وادی کے کئی علاقوں میں لوگ آج بھی پینے کے پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت سے بھی محروم ہیں۔ دستاویزات اور زمینی حقائق کے مطابق ڈوڈہ میں 2 سال سے واٹر کنکشن نہ ملنے پر عوام شدید خوار ہو رہے ہیں اور ان کی زندگیاں عذاب بن چکی ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے رکن کی اس کڑی تنقید سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کی ابتر اصل صورتحال کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کے لیے ترقی کے جھوٹے اور بے بنیاد دعوے کر رہی ہے۔