ارکان اسمبلی کی گرفتاری پر اسپیکر کی اجازت لازمی، محسن نقوی اور بابر سلیم سواتی آمنے سامنے

پارلیمانی استحقاق کا معاملہ، وفاقی وزیر داخلہ کا ردعمل، اسپیکر کا آئینی فریضہ قرار

September 26, 2026 · اہم خبریں
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

پشاور اور اسلام آباد کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ارکان اسمبلی کی گرفتاری کے طریقہ کار پر آمنے سامنے آ گئے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے آئی جی پولیس کو ایک مراسلہ ارسال کیا گیا ہے، جس میں صوبائی اسمبلی کے ارکان کی گرفتاری یا حویل سے قبل اسپیکر کی پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔

مراسلے کے مطابق اسمبلی پاورز، امیونٹیز اینڈ پریولیجز ایکٹ کے تحت عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے اور ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کسی بھی ایم پی اے کو حراست میں لینے سے قبل اسپیکر سے اجازت لینا ہوگی۔ دستاویز کے مطابق مجسٹریٹ یا انتظامی اتھارٹی بھی گرفتاری کی وجوہات بتا کر اسپیکر سے اجازت حاصل کرے گی، جبکہ رکن اسمبلی کی گرفتاری یا حراست کے لیے مقررہ فارم کے ذریعے اسپیکر کو درخواست دی جائے گی۔ اسی طرح اسپیکر عوامی مفاد میں متعلقہ پولیس افسر سے پولیس رپورٹ یا چالان طلب کر سکتے ہیں اور عدالت میں چالان جمع کرانے سے قبل معاملے کی انکوائری بھی کرا سکتے ہیں۔

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی کے پارلیمانی استحقاقات کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ پارلیمانی روایات کا حصہ ہیں، اور اسپیکر کا کردار گرفتاری کو سیاسی انتقام سے محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمانی استحقاقات مقننہ کی آزادی اور منتخب نمائندوں کے تحفظ کے لیے ہیں، منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے کے لیے پولیس استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے اتفاق رائے سے یہ قانون منظور کیا ہے، اور بغیر وارنٹ چہرے ڈھانپے افراد کے چھاپے جمہوریت کے لیے سنگین سوال ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کا خط شیئر کرتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی ایم پی اے کسی کو قتل کر دے تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا پولیس قاتل کو گرفتار کرنے کے لیے پہلے اسپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی؟ قانون کی نظر میں مساوات کی کیا ہی انوکھی تشریح کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے طنزیہ انداز میں اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ بہت خوب، اسی طرح جاری رکھیں اور کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے؟