امریکا اور چین میں 30 ارب ڈالر کی اشیا پر ٹیرف میں کمی پر اتفاق
تجارتی معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی جانب سے بعض اشیا پر ٹیرف میں کمی یا رعایتی شرحیں متعارف کرانے کی سفارشات طے کی گئی ہیں
امریکا اور چین میں 30 ارب ڈالر کی اشیا پر ٹیرف میں کمی پر اتفاق(فائل فوٹو)
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے بعد امریکا اور چین نے ایک دوسرے کی 30 ارب ڈالر مالیت کی غیر حساس اشیا پر زیادہ سازگار محصولات عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق تجارتی معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی جانب سے بعض اشیا پر ٹیرف میں کمی یا رعایتی شرحیں متعارف کرانے کی سفارشات طے کی گئی ہیں۔ امریکی مصنوعات میں زرعی اجناس، سمندری خوراک، لکڑی، کاسمیٹکس اور طبی آلات شامل ہیں، جبکہ چین سے آنے والی بعض صارفین کی مصنوعات بھی اس انتظام کا حصہ ہوں گی
دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات اور اس ٹیکنالوجی کے فوائد پر بات چیت کے لیے امریکا اور چین کے درمیان خصوصی مکالمے کا نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ اجلاس نومبر میں متوقع ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق ہنگامی صورتحال کے لیے رابطے کا ایک الگ چینل بھی قائم کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق چین 2027 اور 2028 میں ہر سال امریکا سے کم از کم ایک کروڑ میٹرک ٹن کوئلہ درآمد کرے گا۔ دونوں ممالک نے سرمایہ کاری اور تجارت سے متعلق دو طرفہ ادارہ جاتی رابطوں کو بھی آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے
امریکا اور چین کے درمیان تجارت سے متعلق حالیہ پیش رفت میں نایاب معدنیات اور دیگر اہم خام مال کی سپلائی سے متعلق امریکی تحفظات پر بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
دونوں صدور کی آئندہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں نومبر میں چین میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون فورم اور دسمبر میں امریکا میں ہونے والی جی 20 سربراہی کانفرنس شامل ہیں