آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائل حملے سے 8 امریکی میرین زخمی ہونے کا اعتراف

3 عہدیداروں نے امریکی نشریاتی ادارے کو تصدیق کردی- جنگی جہاز نہ ہونے کا دعویٰ

September 28, 2026 · بام دنیا
آبنائے ہرمز میں ایک جہاز (فائل فوٹو)

آبنائے ہرمز میں ایک جہاز (فائل فوٹو)

آبنائے ہرمز میں ایران نے امریکہ کے ایک بحری جہاز پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اب امریکہ کے تین عہدیداروں نے اعتراف کیا ہے کہ حملے میں امریکہ کی ممتاز میرین کور کے 8 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے 3 امریکی سرکاری عہدیداروں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ایران کے میزائل حملے میں امریکی میرین کور کے 8 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ان 3 ذرائع نے این بی سی کو بتایا کہ 14 ستمبر کو ایران کے حملے کے وقت امریکی فوجی اس بحری جہاز پر موجود تھے جسے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

ذرائع نے بحری جہاز کی نوعیت نہیں بتائی، تاہم کہا کہ یہ امریکی بحریہ کا جنگی جہاز نہیں تھا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بعض حملوں کی وجہ ایران کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو قرار دیا تھا، تاہم اس نے کہا تھا کہ ان کوششوں کے دوران امریکی فوج کے کسی بھی بحری جہاز کو نقصان نہیں پہنچا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر نے بھی چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فوجی دستے پہلی بار ایک پروجیکٹائل کو امریکی جنگی جہاز کے اوپر دھماکے سے اڑانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

این بی سی کی رپورٹ میں زخمی ہونے والے 8 امریکی میرین اہلکاروں کی تفصیلات کچھ یوں دی گئی ہیں کہ ان میں 7 فوجی اور ایک افسر شامل تھے اور وہ ایک انفنٹری بٹالین کی جنگی ٹیم کے حصے کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انھیں پہنچنے والے نقصانات میں دھوئیں کا سانس کے ذریعے اندر جانا شامل تھا۔ ان 8 میں سے کوئی بھی شدید زخمی نہیں ہوا اور واقعے کے کچھ ہی دیر بعد سب دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔

امریکی میڈیا کے مطابق بظاہر امریکی محکمہ دفاع نے 14 ستمبر کو ہونے والے اس حملے کے وقت عوامی طور پر اس بارے میں اطلاع نہیں دی تھی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی اس واقعے سے متعلق سوال کے جواب میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ان 8 میرین اہلکاروں کے نام حملے کے تقریباً 10 روز بعد امریکی محکمہ دفاع کے ہلاکت و زخمی ہونے کے ریکارڈ کے ڈیٹا بیس میں درج کیے گئے۔