حوثی حملوں اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے امکانات سے خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
عالمی منڈی میں ہلچل، برطانوی اور امریکی خام تیل کی قیمتیں متاثر، ہنگامی اقدامات جاری
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور تجارتی سرگرمیوں کا منظر
عالمی منڈی میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملوں اور دوسری جانب جنگ بندی کے ممکنہ امکانات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ ان حملوں سے خطے کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق برطانوی خام تیل کی قیمت 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، امریکی خام تیل کی قیمت 91 ڈالر فی بیرل سے زائد ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے مربن کروڈ آئل کی قیمت بھی 111 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، تاہم قدرتی گیس کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دوسری جانب جمعہ کے روز امریکا میں خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی جب دنیا کے بڑے صنعتی ممالک کے گروپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانے کے لیے ہنگامی مشاورت کا آغاز کیا۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں ایک موقع پر 5 فیصد تک کمی واقع ہوئی، جس کے بعد یہ قیمت 4 فیصد کمی کے ساتھ 89.15 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔ عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت بھی 2.6 فیصد کمی کے بعد 99.63 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جو گزشتہ کئی روز سے 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد سے اوپر جارہی تھی۔
یورپی یونین نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ عالمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مل کر ہنگامی ذخائر میں موجود مزید خام تیل اور ایندھن عالمی مارکیٹ میں لانے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ رسد بڑھا کر قیمتوں کو نیچے لایا جا سکے۔ تاہم امریکی صدر نے ڈیزل کے ہنگامی ذخائر سے مزید ایندھن مارکیٹ میں لانے کی دھمکی کو مسترد کر دیا تھا۔ ادھر فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے صنعتی ممالک کے گروپ کے رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند رکھے جانے کے باعث عالمی سطح پر پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قلت پیدا ہو چکی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کو مہنگائی کا سامنا ہے۔