پشاورمیں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف تاجروں کااحتجاج،سڑکیں بنداورٹائرنذرآتش
کاروباری سرگرمیاں معطل، صوبائی حکومت کیخلاف نعرے بازی، مطالبات تسلیم نہ ہونے پر پورے صوبے میں دھرنے کی دھمکی۔
پشاور کے اسمبلی چوک پر پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف تاجر برادری کا احتجاج اور ٹائر جلانے کا منظر
پشاور کے اسمبلی چوک پر پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے خلاف تاجر برادری نے شدید احتجاج کیا ہے اور سڑکوں پر ٹائر نذر آتش کرکے خیبر روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا۔ احتجاج کے باعث شہر کے اہم راستوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاجی مظاہرے میں تاجروں کے مختلف وفود، اقلیتی افراد، سیاسی کارکنان اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس دوران مظاہرین نے پختونخوا حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ کو کڑے تنقید کا نشانہ بنایا۔
احتجاجی تاجروں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 سال سے صوبائی حکومت نے عوام کو ان کے حال پر چھوڑ رکھا ہے اور موجودہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے صوبے میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے جبکہ بے روزگاری میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔ تاجر رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب سے موجودہ قیادت نے منصب سنبھالا ہے، صوبہ مسلسل تباہی کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ منتخب ارکان اسمبلی اپنے لانگ مارچ اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے گرفتار کارکنوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔ تاجر برادری کے مطابق اس احتجاجی مارچ کی وجہ سے پنجاب کے ساتھ ہونے والا اربوں روپے کا کاروبار مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور راستے بند ہونے سے ان کی روزی روٹی تباہ ہو چکی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہو کر کرک میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد اب کوہاٹ کی جانب روانہ ہو رہا ہے، جہاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس کارواں کی قیادت کریں گے۔ پارٹی قیادت کے مطابق چارسدہ اور صوابی پہنچنے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ ادھر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مذاکرات کے حتمی ڈرافٹ پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات نہایت سادہ ہیں جن میں بانی پی ٹی آئی اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقاتیں اور ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل اپنانا شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے صوبائی معاملات میں مداخلت بند نہ کی تو پارٹی تمام فورمز پر سخت لائحہ عمل اپنانے پر مجبور ہو جائے گی۔