مذاکرات کی ناکامی، شوکت یوسف زئی نے حکومت کو ذمہ دار قرار دے دیا
حکومت نے خود مذاکرات میں 99 فیصد معاملات پر اتفاق رائے کا دعویٰ کیا تھا، تو پھر مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کی وجہ کیا تھی
مذاکرات کی ناکامی، شوکت یوسف زئی نے حکومت کو ذمہ دار قرار دے دیا
پشاور: پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت یوسف زئی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا ذمہ دار وفاقی وزرا کو قرار دے دیا۔
اپنے بیان میں شوکت یوسف زئی نے کہا کہ حکومت نے خود مذاکرات میں 99 فیصد معاملات پر اتفاق رائے کا دعویٰ کیا تھا، تو پھر مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کی وجہ کیا تھی۔ ان کے مطابق باقی ایک فیصد نکات کے حل کے لیے مزید وقت دیا جاسکتا تھا۔
انہوں نے وفاقی وزرا کی جانب سے پی ٹی آئی پر سہولت کاری کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی رہنما کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہے تو اسے سامنے لایا جائے۔
شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت لانگ مارچ کی وجہ سے تباہ نہیں ہوئی، حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے معیشت بہتر بنانے کے بجائے پی ٹی آئی کو ختم کرنے پر زیادہ توانائیاں صرف کیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 2025 کے آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خلاف تعاون سے کبھی انکار نہیں کیا۔
پی ٹی آئی ترجمان نے ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان کو صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے گورنر ہاؤس سیاسی سازشوں کا مرکز نہیں بنے گا۔
شوکت یوسف زئی نے کہا کہ بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ آج بھی مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، اس لیے حکومت کو بغیر کسی تعطل کے اپوزیشن سے دوبارہ بات چیت شروع کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق گورنر راج کا مشورہ دینے والے وزرا حکومت کو مزید مشکلات میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات جائز ہیں اور پارٹی ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد چاہتی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات، اسپتال منتقلی، مقدمات کی جلد سماعت اور ان کی بہنوں کی رہائی ہی موجودہ صورتحال کا حل ہے۔