پی ٹی آئی لانگ مارچ پشاور میں داخل، صوابی میں اگلی حکمت عملی کا اعلان ہوگا،سہیل آفریدی
قافلہ حیات آباد ٹول پلازہ سے روانہ ہو کر پشاور کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا چارسدہ روڈ تک پہنچے گا، جہاں رات قیام کے بعد اگلی صبح مارچ دوبارہ شروع ہوگا
پی ٹی آئی لانگ مارچ پشاور میں داخل، صوابی میں اگلی حکمت عملی کا اعلان ہوگا،سہیل آفریدی
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ خیبر سے پشاور میں داخل ہوگیا، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوابی پہنچنے کے بعد مارچ کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق مارچ کا قافلہ حیات آباد ٹول پلازہ سے روانہ ہو کر پشاور کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا چارسدہ روڈ تک پہنچے گا، جہاں رات قیام کے بعد اگلی صبح مارچ دوبارہ شروع ہوگا اور قافلہ ضلع چارسدہ کی جانب روانہ ہوگا۔
مارچ کی آمد کے پیش نظر پشاور کے بعض نجی تعلیمی اداروں نے اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے والدین کو پہلے ہی تعطیل سے متعلق آگاہ کردیا گیا تھا، تاہم سرکاری اسکولوں کی چھٹی کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
شہر کے بعض علاقوں میں موبائل فون سروس متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے تاحال باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
ضلع خیبر کے باڑہ بازار میں مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوابی پہنچنے پر تحریک انصاف آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔ ان کے مطابق مارچ کے اگلے مرحلے سے متعلق منصوبہ فی الحال ظاہر نہیں کیا جارہا۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئندہ مرحلے میں نئی حکمت عملی کے ساتھ پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ پرامن رہے گا اور شرکا کسی غیر آئینی یا غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔
تحریک انصاف کے مطابق اس کے بنیادی مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے طبی سہولیات، قانونی اور خاندانی ملاقاتوں کی اجازت، مقدمات کے جلد فیصلے اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان نئی سیکیورٹی پالیسی شامل ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مؤقف پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سہیل آفریدی کا طرز عمل صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی صورتحال پیدا کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی خواہش نہیں رکھتی، تاہم ان کے بقول اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پر عائد ہوگی۔ وفاقی وزیر نے دہشت گردی کے خلاف حکومتی پالیسی میں عدم تعاون سے متعلق بھی وزیراعلیٰ کے مؤقف پر تنقید کی۔