مشرقی پاکستان کو الگ کرنے والے اب صوبے میں گورنر راج کی سازشیں کر رہے ہیں، سہیل آفریدی
اہم پیش رفت، وزیراعلیٰ نے لانگ مارچ کے روٹ میں تبدیلی کا اعلان کر دیا، حتمی لائحہ عمل صوابی میں دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پشاور میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کر رہے ہیں
پشاور میں پاکستان تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقی پاکستان کو الگ کرنے والے عناصر اب صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی گھناؤنی سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ گولی چلائیں گے تو ہم اپنے سینے پیش کر دیں گے، تاہم ہماری تمام تر جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جاری رہے گی۔
لانگ مارچ کے شیڈول کے حوالے سے تازہ ترین تفصیلات کے مطابق، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے روٹ میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت لانگ مارچ کے قافلے 11 اکتوبر کو صوابی روانہ ہوں گے۔ نئے پروگرام کے مطابق لانگ مارچ کے شرکاء مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے، جہاں 9 اکتوبر کو چارسدہ اور 10 اکتوبر کو مردان میں قیام کیا جائے گا، جبکہ 11 اکتوبر کو تمام قافلے صوابی پہنچیں گے جہاں وزیراعلیٰ اگلے اور حتمی لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ہم سے ملٹری آپریشن، ایمرجنسی اور ڈرون حملوں کی اجازت مانگی گئی تھی لیکن نیت میں فتور ہونے کی وجہ سے صاف انکار کر دیا کیونکہ ان کی اولین ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ تحریکِ انصاف کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ اپنی نیت درست کر لیں اور دی گئی پالیسی پر عمل کریں تو محض 100 دنوں کے اندر اندر امن بحال کیا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے جدید تقاضوں کے مطابق ای گورننس کو فروغ دیا اور عالمی سطح پر اعتراف حاصل کیا، مگر اس کے باوجود مرکزی حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو ہماری کارکردگی دکھائی نہیں دیتی۔
عالمی بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی کل آبادی کا 48 فیصد حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے، جبکہ فی کس آمدنی 3 ڈالر سے بھی کم ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جن عناصر نے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی اور بیرون ملک جزیرے خریدے، وہ خود کو سمجھ دار اور عوام کو ناسمجھ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ناحق قید میں ہیں لیکن تمام تر سختیوں کے باوجود انہیں جھکایا نہیں جا سکا، اور ملک کو ترقی کی راہ پر واپس لانے کے لیے عمران خان کا باہر آنا ناگزیر ہے۔